امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جھوٹی اور پرتشدد قیادت ملک کو مکمل تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز ایرانی جہازوں کے علاوہ دیگر تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گذشتہ شام سے دوبارہ نافذ ہونے والا محاصرہ ان تمام جہازوں پر لاگو ہوگا جو ایرانی سامان لے جا رہے ہوں گے، نہ کہ صرف ان جہازوں پر جو ایرانی بندرگاہوں سے آ یا جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے سمندری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے کے فیصلے کی وجہ ایرانی قیادت کے فیصلوں کو قرار دیا جنہیں انہوں نے جھوٹا اور پرتشدد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ادھر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی حفاظت کے بدلے 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز سے بھی پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ اب وہ اس کے بجائے سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کی کوشش کریں گے۔
امریکہ نے ایران پر نئے فضائی حملے کیے ہیں جو اس کی بندرگاہوں پر سمندری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے سے چند گھنٹے قبل کیے گئے، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
اس کشیدگی کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت 5.1 فیصد اضافے کے ساتھ 87.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 3.9 فیصد اضافے کے ساتھ 81.21 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
امریکی افواج نے لگاتار تیسری رات ایران کے جنوبی ساحلی شہروں بندر عباس اور بوشہر میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکرز پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں بھارتی نژاد عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا، جس پر بھارت نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت کار کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایرانی رہنماؤں کو دھمکی دی کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے اس کے ملک پر شدید ضرب کا سامنا کرنا پڑے گا۔