ایران میں قید برطانوی کو مزید دو سال کی سزا سنا دی گئی ہے: اہلِ خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران میں قید برطانوی جوڑے کریگ اور لنڈسے فورمین کے اہلِ خانہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایک جج نے میڈیا سے بات کرنے پر کریگ فورمین کی سزا میں دو سال کی توسیع کر دی ہے۔ یہ دونوں جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

موٹرسائیکل کے ذریعے ایران میں سفر کرنے والے اس جوڑے کو 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا جو ان کے عالمی سفر کا ایک حصہ تھا۔ برطانیہ نے ان کی اصل سزاؤں کو "مکمل طور پر ناقابلِ جواز" قرار دیا ہے۔

لنڈسے فورمین کے بیٹے اور خاندان کے ترجمان جو بینیٹ نے کہا، ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ کریگ فورمین کو جج کے سامنے لے جا کر بتایا گیا کہ ان کی سزا میں توسیع کر دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے میڈیا سے بات کی تھی۔

بینیٹ نے ایک بیان میں کہا، "انہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں وکیل سے ملنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا لیکن اس کے بجائے انہیں جج کے سامنے پیش کر کے مزید سزا کے بارے میں بتایا گیا۔"

انہوں نے کہا کہ کریگ فورمین کو وکیل اور مترجم تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا اور انہیں اپنے دفاع کا کوئی موقع نہیں دیا گیا تھا۔

برطانیہ کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک ای میل بیان میں کہا، ہم "سزا میں اطلاع کردہ اضافے کے بارے میں ایرانی حکام سے فوری رابطے میں ہیں۔"

مئی میں جوڑے کی شروع کردہ بھوک ہڑتال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے دو آزاد ماہرین نے کہا، لگتا ہے کہ فورمین کو غلط طریقے سے حراست میں لیا گیا اور ایسی عدالتی کارروائیوں کے بعد سزا سنا دی گئی جو منصفانہ مقدمے کی بنیادی ضمانتیں پورا کرنے میں ناکام رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں