امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی افواج کو شام اور لبنان سے واپس بلائیں۔ نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے اس پیش رفت کی اطلاع دی ہے۔
ویب سائٹ نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے یہ مطالبہ 9 جولائی سنہ 2026ء کو ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاھو پر واضح کیا کہ اسرائیل کو شام سے اپنی افواج کو انخلا کرنا چاہیے اور یہی مطالبہ انہوں نے لبنان کے حوالے سے بھی دہرایا۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاھو کو خبردار کیا کہ شام میں اسرائیلی فوجی موجودگی کشیدگی پیدا کر رہی ہے اور یہ صورتحال مزید تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ صدر نے گفتگو کے دوران کہا کہ وہاں کے مقامی لوگ آپ کی موجودگی نہیں چاہتے اور آپ کو اپنی افواج کو دوبارہ تعینات کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہی موقف لبنان کی موجودہ صورتحال پر بھی پوری طرح لاگو ہوتا ہے۔
لبنان اسرائیل مذاکرات کا چھٹا دور
دوسری جانب منگل کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے چھٹے دور کا آغاز ہوا۔ بیروت کو امید ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگی اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا شروع ہو سکے گا۔ اس معاہدے کے تحت تجرباتی علاقوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے ذریعے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے گا اور اسرائیلی انخلا کے بعد لبنانی فوج جنوبی لبنان کے علاقوں میں مرحلہ وار اپنی پوزیشن سنبھالے گی۔
مذاکرات کے پہلے سیشن میں تجرباتی علاقوں کے قیام اور ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جن پر اسرائیل قابض ہے۔ منگل کو روم میں ہونے والی پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ ہم ان دو تجرباتی علاقوں میں پیش رفت کے لیے تیار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ روم میں ہونے والی یہ بات چیت اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔
اسرائیلی فوج لبنان کی سرحد کے ساتھ تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی تک ایک بفر زون پر قابض ہے۔ اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ شمالی بستیوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے اس علاقے کا کنٹرول ضروری ہے۔
گذشتہ ماہ 26 جون کو واشنگٹن میں ہونے والے ایک اجلاس میں لبنان میں تنازع ختم کرنے، حزب اللہ جیسے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور جنوبی لبنان میں لبنانی افواج کی تعیناتی کے ساتھ اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ اسرائیلی حملے جاری ہیں اور حزب اللہ نے اس معاہدے اور خود کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ کے ہتھیار موجود ہیں، تب تک اس کی افواج جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی