امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی کو ایک نئے سیاسی اور سیکیورٹی امتحان کا سامنا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسِیوس (Axios) کے مطابق الزیدی نے ایران کی جانب سے واشنگٹن کا دورہ منسوخ کرنے کے لیے ڈالے گئے دباؤ کو مسترد کر دیا۔
اسی دوران انہوں نے اربیل شہر کی فضائی حدود میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی کارروائی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
ایکسِیوس کی رپورٹ کے مطابق علی فالح الزیدی نے ایرانی دباؤ کے باوجود اپنا سرکاری دورۂ امریکہ جاری رکھا اور بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الزیدی چند روز قبل ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے تھے، جس کے بعد وہ واشنگٹن روانہ ہوئے۔
He honored Khamenei. Then he broke bread with Trump. https://t.co/9qH9yO2Q4C
— Axios (@axios) July 15, 2026
یہ صورتحال بغداد کی جانب سے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2003 کے بعد آنے والے دیگر عراقی وزرائے اعظم کی طرح علی فالح الزیدی بھی امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کو متوازن انداز میں چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں ممالک کے درمیان حملوں کے تبادلے نے اس توازن کو برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔
اربیل پر ڈرون حملے کی مذمت
ان پیش رفتوں کے ساتھ ہی عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن کے دارالحکومت اربیل پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی سلامتی اور استحکام پر حملہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ حکومت اربیل کی فضائی حدود میں ڈرونز کی دراندازی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ایسی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ،جس کا مقصد عراقی عوام کے امن، ملکی استحکام، ریاستی اداروں کی مضبوطی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہو۔
الزیدی نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو، کردستان ریجن کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر، تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے اور اس کے ذمہ دار عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
من منطلق مسؤوليتنا الدستورية، ندين بشدة الاعتداء من خلال الطيران المسير، الذي اخترق أجواء مدينة أربيل في إقليم كردستان العراق، ونؤكد عدم التهاون إزاء هذه المحاولات الآثمة، التي تحاول بيأس أن تنال من استقرار شعبنا ومساره الواثق في بناء الدولة والسلم المجتمعي.
— علي فالح الزيدي (@AliFalihAlzaidy) July 16, 2026
وجهنا الأجهزة…
دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اربیل کے اوپر کئی ڈرونز کو مار گرایا گیا، تاہم عراقی حکام نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈرون کس نے بھیجے تھے، جبکہ کسی گروہ نے بھی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بغداد حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ وہ ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری جانب ملک کے اندرونی امن و استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔