امریکی حکام کو تہران کے لیے چینی اور روسی حمایت کا شبہ

ایران اپنے میزائل حملوں کو مزید جدید بنا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی حکام کے مطابق ایران نے امریکی دفاعی نظام کو ناکام بنانے کے لیے اپنی حملہ آور حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔

تہران اب ایسے میزائل استعمال کر رہا ہے، جو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہیں اور ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس پیش رفت نے حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، جبکہ واشنگٹن میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ شاید ایران کو روس یا چین سے انٹیلی جنس یا تکنیکی مدد مل رہی ہو۔

یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔سیاسی ردعمل میں متعدد امریکی قانون سازوں نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

ان میں ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹس کی سینیئر رکن جین شاہین بھی شامل ہیں۔ جین شاہین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اس تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کریں۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے امریکہ کے عزم میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے حملے میں اردن کے موفق السلطي ایئر بیس پر دو امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ کمانڈ کے مطابق ایک تیسرا فوجی اب بھی لاپتہ ہے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ چار فوجیوں کو علاج کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد میں انہیں فارغ کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمی ہونے والے کچھ اہلکار دوبارہ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے لگے۔

حملوں سے متعلق معلومات رکھنے والے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے انتہائی حساس اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیابی نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ شاید تہران کو ہدف بندی یا انٹیلی جنس معلومات کے شعبے میں روس یا چین کی مدد حاصل ہو رہی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

یہ اپریل کے آغاز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد دشمن کی فائرنگ سے ہونے والا پہلا امریکی جانی نقصان ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا تو وہ دوبارہ جنگ میں واپسی پر غور کریں گے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکی اور اتحادی افواج میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران ماضی میں بھی اس اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے متعدد بار نشانہ بنا چکا ہے۔

اس حملے سے قبل پینٹاگون کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع میں دشمنانہ کارروائیوں یا حادثات کے نتیجے میں 14 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ پندرہواں فوجی طبی ہنگامی صورتحال کے باعث جان سے گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جھڑپیں رواں ماہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع سے شروع ہوئیں، جو بعد میں خلیج عرب اور ایران میں بحری جہازوں، توانائی کی تنصیبات اور پلوں تک پھیل گئیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریق اب تک مکمل جنگ میں جانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک ایسے تصادم کا باعث بن سکتی ہے ،جسے روکنا مشکل ہوگا۔

دوسری جانب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ جرمنی کے اسپانگڈاہلم ایئربیس سے ایف-16 لڑاکا طیاروں کی تعیناتی شروع کر دی گئی ہے، جو ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ کے لیکِن ہیتھ بیس سے جدید ترین ایف-35 اسٹیلتھ طیارے بھی بھیجے گئے ہیں، جبکہ فضا میں ایندھن بھرنے والے طیارے بھی خطے میں پہنچائے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں