برطانیہ میں خشک سالی کے باعث پانی کے پائپوں کے استعمال پر پابندی
پابندی کی زد میں 2.4 ملین سے زائد آبادی والے علاقے آگئے
برطانیہ کے مقامی حکام نے خشک سالی کے خطرے سے دوچار اور کئی ہفتوں سے جاری گرمی کی لہر کی زد میں آنے والے متعدد علاقوں میں پانی کے پائپوں (ہوز پائپ) کے استعمال پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔
برطانوی حکام کی جانب سے اعلان کردہ اس پابندی کا اطلاق ان علاقوں پر ہوگا جہاں 2.4 ملین سے زائد افراد آباد ہیں اور یہ اقدام حالیہ گرمی کی لہروں کے باقی ماندہ اثرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
گھروں اور مکینوں کو پانی کی فراہمی کی ذمہ دار کمپنی "ساؤتھ ایسٹ واٹر" کا بیان "میٹرو" میں شائع ہوا جو العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مشاہدے میں آیا میں ہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز سے سسیکس، سرے، ہیمپشائر اور برکشائر کے علاقوں میں 2.4 ملین صارفین نئے ضوابط سے متاثر ہوں گے۔
کمپنی نے صارفین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر پانی کی کھپت میں کمی کریں اور باغبانی، گاڑیاں دھونے، صحنوں یا کشتیوں کی صفائی اور سوئمنگ پول بھرنے کے لیے پانی کے پائپوں کا استعمال بند کر دیں۔
دریاؤں کی گرتی ہوئی سطح، زیر زمین پانی کے تحفظ کی ضرورت، گرم موسم اور پانی کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے یہ پابندی اس سے قبل صرف کینٹ کے علاقے کے صارفین پر لاگو تھی۔
’ساؤتھ ایسٹ واٹر‘ کے واٹر سپلائی ڈائریکٹر ڈوگلس وائٹ فیلڈ نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر ایک کی بنیادی روزمرہ ضروریات جیسے پینے، پکانے اور ذاتی صفائی کے لیے پانی کی وافر مقدار دستیاب ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل کے تحفظ اور گھروں میں اچانک پانی کی فراہمی معطل ہونے سے بچنے کے لیے ہمیں افسوس کے ساتھ مقامی کمیونٹیز سے یہ مطالبہ کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر پانی کے پائپوں کا استعمال بند کر دیں۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب وسطی اور جنوب مشرقی انگلینڈ کے علاقے موجودہ صدی کے دوران بارش کے بغیر طویل ترین مسلسل دور سے گزر رہے ہیں۔
محکمہ کے دونوں خطوں میں قائم موسمیاتی اسٹیشنوں کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال سنہ 2026ء میں 2 جولائی سے 15 جولائی تک مسلسل 14 دنوں تک بالکل بارش نہیں ہوئی ۔
ماحولیاتی ایجنسی نے جمعہ کو جاری کردہ خشک موسم اور خشک سالی سے متعلق اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا کہ انگلینڈ میں پانی کے ذخائر (ریزروائرز) کی سطح اس وقت 79 فیصد ہے جو اس سال کے طویل مدتی اوسط سے تقریباً پانچ فیصد کم ہے۔
پانی کے چھ ذخائر کو انتہائی کم سطح کا شکار قرار دیا گیا ہے جبکہ سومرسیٹ کے علاقے میں واقع "بلاگدون" ریزروائر کو انتہائی تشویشناک حد تک کم سطح کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
یہ صورتحال برطانیہ کے مختلف حصوں میں سنہ 2026ء کے دوران درجہ حرارت کے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد عبور کرنے کے 28 دنوں (چاہے وہ مسلسل ہوں یا وقفے وقفے سے) کے ریکارڈ کے بعد سامنے آئی ہے؛ جہاں مئی میں 7 دن، جون میں 8 دن اور جولائی میں 13 دن درجہ حرارت اس حد سے تجاوز کر گیا۔
واضح رہے کہ ایک سال میں درجہ حرارت کے 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے والے دنوں کا ریکارڈ 34 دن ہے جو سنہ 1995ء میں درج کیا گیا تھا۔
-
جدید طرزِ زندگی انسان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے:ماہرین
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں تیز رفتار ترقی نے انسانی دماغ اور جسم ...
بين الاقوامى -
پاکستان : فری لانس برآمد کنندگان نے پچھلے مالی سال میں 1.76 ارب ڈالر کمائے
فری لانس برآمد کنندگان نے پاکستان سے پچھلے مالی سال کے دوران اپنی برآمدات ایک ارب ...
پاكستان -
یو ایس مارشلزنے سوشل میڈیا سٹارز ٹیٹ برادران کو گرفتار کر لیا، برطانیہ کا حوالگی کا مطالبہ
امریکی مارشلز سروس نے ہفتے کے روز اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ کو گرفتار کر لیا جیسا کہ ...
بين الاقوامى