بھارت نے منگل کو نئی دہلی میں روس کے اعلیٰ ترین ایلچی کو طلب کر کے یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا سے جانے والے مال بردار جہاز پر حملے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس میں چار بھارتی شہری ہلاک ہوئے تھے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے اتوار کو تجارتی جہاز ایم وی گولڈن لیو پر ہونے والے حملے پر "سنگین تشویش" اور "واضح مذمت" کرنے کے لیے روس کے ناظم الامور ولادیمیر لاڈانوف کو طلب کیا۔ نیز یہ کہ جہاز میں سوار پانچ بھارتیوں میں سے چار ہلاک ہو گئے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا، "اس طرح کے حملے بین الاقوامی سمندری تجارت کے تحفظ، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔"
نیز کہا کہ روسی ایلچی سے ماسکو کو یہ پیغام دینے کے لیے بھی کہا گیا کہ "تجارتی جہازرانی کو نشانہ بنانا اور اس کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی جانوں کا نقصان ناقابلِ قبول ہے اور اس سے گریز کیا جائے۔"
یوکرین کی بحریہ نے اتوار کو کہا کہ روسی میزائل حملوں میں ترکی کے ملکیتی اور گنی بساؤ کے پرچم بردار تجارتی جہاز گولڈن لیو کو نشانہ بنایا گیا جو اناج لے جا رہا تھا۔
وزارتِ جہازرانی کے مطابق بھارت تمام دنیا میں تجارتی جہازرانی کے لیے ملاحوں اور عملے کا ایک سب سے بڑا تعاون کنندہ ہے جس میں 2025 میں 320,000 سے زیادہ فعال بحری عملہ شامل تھا۔
روس اور بھارت ایک دوسرے کو "وقت کے آزمودہ" دوست تسلیم کرتے ہیں جن کا ربط سوویت دور سے جاری ہے لیکن 2022 میں ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد سے یہ روابط خاصے دباؤ میں آ گئے ہیں۔