ایران معاہدے کے لیے بھیک مانگ رہا ہے ، تہران نے ابھی کچھ نہیں دیکھا: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے "سرتوڑ" کوشش کر رہا ہے ،انہوں نے اس دعویٰ کیاکہ تہران واشنگٹن کے ساتھ ملاقات کرنے کا بھی خواہشمند ہے تاہم موجودہ وقت میں امریکی انتظامیہ ایسی کسی ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون سےملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "ایران نے ابھی کچھ نہیں دیکھا" اور انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ "اپنا کام بالکل ختم نہیں کیا" جبکہ اس دوران امریکی فوج نے لگاتار دسویں رات بھی ایرانی بنیادی ڈھانچے پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔

امریکی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر نافذ ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم کسی بھی ایسی ایرانی تنصیب کو نشانہ بنائیں گے جہاں جوہری ہتھیار تیار کیا جائے گا"۔

انہوں نے اعلان کیا کہ "امریکہ بہت جلد ایران میں جبل الفأس کے علاقے کو نشانہ بنائے گا"۔

امریکی صدر کا کہنا تھا سابق صدر باراک اوباما کا معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ تھا۔
جبکہ انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ایران کی تعمیر نو میں 20 سے 25 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

ہم بحر احمر کا معاملہ سنبھال لیں گے

اس کے علاوہ امریکی صدر نے حوثیوں کی دھکیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کا "معاملہ خود سنبھال لے گا"۔

ٹرمپ نے بیان دیا کہ "اگر بحر احمر میں کچھ ہوا تو ہم اس سے خود نمٹ لیں گے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آپ جانتے ہیں کہ ہم نے ماضی میں حوثیوں کے ساتھ ایسا کیا تھا اور اس کے بعد سے ہمیں ان کی طرف سے کچھ عرصہ تک کوئی آواز سنائی نہیں دی" جو مئی سنہ 2025ء میں عمان کی ثالثی کے تحت معاہدے تک پہنچنے سے پہلے واشنگٹن کی طرف سے ان پر کیے گئے حملوں کی طرف اشارہ تھا۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران نے منگل کے روز خطے کے ممالک پر اپنے حملے تیز کر دیے اور مشرق وسطی کی جنگ میں مختصر امن کے دور کے خاتمے کے بعد دو ہفتے قبل جنگی کارروائیوں اور امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد امریکی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

ادھر پاکستان نے جس نے گزشتہ مہینوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا تھا جون میں طےشدہ مفاہمت کی یادداشت کو بحال کرنے کے لیے کسی بھی سنجیدہ تصفیے کے فقدان کے تناظر میں تحمل سے کام لینے کی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ تہران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے بحر احمر میں پابندی عائد کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ جنگ کے دائرہ کار کے پھیلنے کا خدشہ بھی پایا جاتا ہے جس سے آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثرہ توانائی کی مارکیٹ میں مزید اتھل پتھل پیدا ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں