امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بدھ کی علی الصبح اعلان کیا کہ اس نے امریکی مشرقی ساحلی وقت کے مطابق شام 7 بجے ایران کے اندر اہداف پر نئے فوجی حملے شروع کیے، جو مسلسل گیارہویں رات کی کارروائی ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرات سے دوچار کرنے کی تہران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
CENTCOM forces began striking military targets in Iran at 7 p.m. ET today for the 11th consecutive night. The strikes are designed to continue degrading Iran's ability to threaten commercial shipping in the Strait of Hormuz.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 21, 2026
بعد ازاں ایک اور بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات کی فوجی کارروائیاں امریکی مشرقی ساحلی وقت کے مطابق رات 15 :8بجے کامیابی سے مکمل کر لیں۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فوج کے آپریشنل مراکز، بحری صلاحیت، طیاروں کے ہینگر، ڈرون ذخیرہ گاہیں اور فوجی لاجسٹک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرات سے دوچار کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید محدود کیا جا سکے۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 22, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ تین ماہ کے دوران خطے میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے لیے 20 سے زائد حملے کیے ہیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ بحری آمدورفت کی آزادی کے تحفظ اور خطرات کے سدباب کے لیے اس کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
متعدد علاقوں میں دھماکے
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے ایران پر نئی فضائی کارروائیوں کے آغاز کے اعلان کے ساتھ ہی ایرانی ذرائع ابلاغ نے ملک کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی، جبکہ حالیہ گھنٹوں کے دوران حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہونے کی بھی خبر دی گئی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اہواز کے جنوب میں واقع شہر معشور پر بمباری کی گئی۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی حملوں میں معشور بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ سرکاری ٹیلی وژن نے اطلاع دی کہ بہبہان اور العمیدیہ شہروں پر بھی حملے کیے گئے۔ادھر بوشہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ شہر میں دو مقامات امریکی حملوں کا نشانہ بنے، تاہم اہداف کی نوعیت یا نقصان کی تفصیلات کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔حملوں کا دائرہ ملک کے جنوب مشرقی علاقوں تک بھی پھیل گیا، جہاں ایرانی میڈیا نے چابہار اور کنارک بندرگاہوں کی فضاؤں میں دھماکوں کی اطلاع دی۔
دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کے جنوب مشرق میں واقع پارچین جوہری مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے کسی نقصان یا حملے کی نوعیت پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
دارالحکومت تہران میں بھی ایرانی میڈیا کے مطابق فضائی دفاعی نظام دوبارہ فعال کر دیا گیا، جبکہ حملے متعدد صوبوں تک پھیلنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
کشیدگی میں مسلسل اضافہ
یہ تازہ حملے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن فی الحال تہران سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا، جب تک ایران ''سنجیدہ انداز میں'' بات چیت پر آمادگی ظاہر نہ کرے۔
ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ امریکہ جلد (جبل الفاس ) کلہاڑی پہاڑی کے اطراف کے علاقے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جہاں ایران کی ایک انتہائی محفوظ جوہری تنصیب واقع ہے۔
تہران نے اس بیان کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کی جوہری تنصیبات یا دیگر حساس مقامات پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور خطے میں امریکی مفادات اور اس کے اتحادی بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والی تیل اور گیس کی تقریباً پانچواں حصہ تجارت اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اس کی فوجی کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔