حملے جاری رہے تو دس گنا شدید جواب دیں گے: امریکی وزیر جنگ کی ایران کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے تجارتی بحری جہازوں اور خطے کے ممالک پر اپنے حملے جاری رکھے تو اسے دس گنا زیادہ شدید فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کے درمیان لگاتار دسویں روز بھی کشیدگی جاری رہنے کے ساتھ ہی تہران نے مذاکرات کے تمام دستیاب مواقع ضائع کر دیے ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ دونوں فریقوں کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت معطل ہو گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے لبنانی ہم منصب جوزف عون کی ملاقات کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ایران نے رابطے اور بات چیت کا ہر موقع ضائع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر کے پاس اس کشیدگی سے نمٹنے کے لیے متعدد اختیارات موجود ہیں اور اگر وہ بات کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ورنہ انہیں امریکی وزارت دفاع کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی دوران انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایران کے پاس ایک بڑی مقدار میں ہتھیار موجود تھے جو ایک ایسا خطرہ ہے جس کے لیے سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے حملے جاری رکھے تو ہم دن بدن اور رات در رات اس پر دس گنا زیادہ ضرب لگائیں گے۔

کشیدگی کا سلسلہ جاری

امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے اندر مسلسل دسویں رات بھی حملے کیے ہیں اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے لیے فوجی کمانڈ مراکزمیں بحری صلاحیتوں میزبان اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے مقابلے میں ایران نے کویت بحرین اور اردن کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کا اعلان کیا ہے جس سے 17 جون کو طے پانےوالی اس مفاہمت کی یادداشت کا خاتمہ ہو گیا ہے جس میں ایرانی جوہری فائل اور دیگر امور پر مذاکرات شروع کرنے کی شرط رکھی گئی تھی تاکہ جنگ کو ختم کرنے والے کسی سمجھوتے پر پہنچا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں