ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے بڑی جمہوریت کے حامل جنوبی ایشیائی ملک بھارت میں عوام کو تشدد کا نشانہ بنانے کی روایت جموں و کشمیر سے آگے اب نئی دہلی کے جنتر منتر چوک تک پہنچ گئی ہے۔ بھارتی اپوزیشن عوام کے خلاف ریاستی تشدد کی اس پالیسی کا ذمہ دار مودی سرکار کو سمجھتی ہے۔ اس لیے بھارت میں نئی قائم کی گئی سیاسی جماعت 'کوکروچ جنتا پارٹی' کے پر امن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مرتکب سرکار کا اپوزیشن نے استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کاکروچ پارٹی کے یہ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے والے نوجوان تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ جنتر منتر چوک پر جمع ہوئے تھے۔ جنہیں پولیس نے منتشر کرنے کے لیے بد ترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا نشانہ بنایا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ میڈیکل کی تعلیم کا امتحانی سکینڈل دب جائے۔
بھارتی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے اس پولیس تشدد کے خلاف سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تشدد کی ذمہ داری وزیر اعظم نریندر مودی پر عاید ہوتی ہے۔ جو بھارتی نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ راہول گاندھی نے یہ مطالبہ سوشل میڈیا کے ذریعے کیا ہے۔ انہوں نے بعض دیگر ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ احتجاجا وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف احتجاجی مارچ بھی کیا۔
راہول گاندھی نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ مودی مستعفی ہو جائیں ، کیونکہ ان کی سرکار سمجھتی ہے کہ یہ کسی بھی معاملے میں عوام کے سامنے جوابدہ نہیں، پارلیمنٹ میں کسی معاملے پر 'ڈی بیٹ' کی جاتی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے دارالحکومت میں ایک بڑے احتجاج کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران نئی دہلی میں یہ سب سے بڑا احتجاج تھا، لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر دھیان دینے کے بجائے احتجاجی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کم از کم 60 مظاہرین کو زخمی کر دیا۔ یہ مظاہرین بھارتی وزیر تعلیم کا استعفیٰ مانگ رہے تھے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے استعمال کے علاوہ لاٹھی چارج بھی کیا اور دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 118 کی تعداد میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے ہیں۔
مظاہرین بڑی تعداد میں جنتر منتر چوک پر منگل کے روز بھی موجود رہے۔ ان کا مطالبہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات کرنے اور بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ مظاہرین کاکروچ جنتا پارٹی آن لائن پلیٹ فارمز پر کئی ملین فالورز رکھنے والی جماعت ہے،جس کا قیام ماہ مئی میں عمل میں لایا گیا ہے۔
شرمناک دن
کاکروچ پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا سوشل میڈیا پر اپنے ان مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر بے گناہ اور نہتے نوجوانوں پر تشدد کے باعث اس دن کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیا۔
یاد رہے پیر کے روز مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف جا رہے تھے کہ پولیس نے انہیں زبردستی روک دیا۔ کاکروچ پارٹی کے بانی ابھجیت دیپک نے نوجوانوں سے کہا ہے کہ وہ حوصلہ برقرار رکھیں اور امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ کیونکہ حکمران ہمارے حوصلے کو توڑنا چاہتے ہیں۔ احتجاج کی کال دینے والوں کا کہنا ہےکہ پولیس تشدد سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہرین نے اس دوران حکومتی دعوت پر اس کے ساتھ بات چیت کی، مگر حکومتی نمائندے نے انہیں یہ کہہ کر ٹرخا دیا کہ ان مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ غور کرنے کا وعدہ سینیئر وزیر جے پی ناڈا نے پیر کے روز کیا تھا۔
اب پیچھے نہیں ہٹیں گے
مظاہرین جن کا کسی احتجاج کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ پولیس تشدد کے بعد بے خوف ہو گئے ہیں۔ احتجاج میں شامل قانون کے طالب علم 25 سالہ چندرا پرتاپ نے کہا اب ہمارا ڈر ختم ہو گیا ہے۔ پولیس کو مظاہرین پر تشدد کرتے دیکھ کر میرا خون کھول رہا تھا۔
مظاہرین کے پارلیمنٹ کی طرف آنے کی کوشش کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اپوزیشن بینچوں کا مطالبہ تھا کہ پولیس کے تشدد اور مظاہرین کے مطالبات پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔
نوجوانوں کا یہ احتجاج میڈکل ایجوکیشن میں ایک بڑے سکینڈل کے سامنے آنے سے شروع ہوا ہے۔ اس سکینڈل نے بھارت میں ڈاکٹر بننے والوں کے مستقبل پر سوال کھڑے کر دیے ہیں کہ بھارت میں میڈیکل ایجوکیشن میں بھی اس طرح کے امتحانی پیپر سکینڈل موجود ہیں تو کیسے لوگوں کو بھارت ڈاکٹر بنا کر باہر بھیج رہا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔