.

لبنانی خواتین کا پارلیمنٹ کے اسپیکر کے گھر کے سامنے 'ڈانسنگ احتجاج'

گھریلو تشدد اور آنرر کلنگ کے بارے میں قانون سازی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف بطور احتجاج پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے رہائش گاہ کے باہر رقص کی محفل جمائی۔

ناچتی گاتی دوشیزائیں مجلس قانون ساز کے سربراہ سے مطالبہ کر رہی تھیں کہ ملک میں بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری قانون سازی کی جائے اور گھریلو تشدد کا قابل دست اندازی پولیس جرم بنایا جائے۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر کے گھر کے سامنے احتجاج کی منطق بیان کرتے ہوئے ایک دوشیزہ نے بتایا کہ سن 2009ء میں پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر بری نے اپیل کی تھی کہ خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لئے قانون سازی کی جائے۔ نیز خواتین کو ہدف بنانے والے خشک اور امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔

گھریلو تشدد کے خلاف لبنانی دوشیزاؤں کی مہم کو ملک میں بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ احتجاج کرنے والی خواتین کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کو غیر قانونی قرار دینے کی خاطر اسپیکر پارلیمنٹ کے اگلے ان موضوعات کو قانون سازی کے ایجنڈے میں شامل کرائیں۔

یاد رہے کہ گھریلو تشدد کے خلاف تحریک کے آغاز میں ایک ریلی نکالی گئی جس میں بڑے تعداد میں خواتین، مرد اور بچوں نے شرکت کی۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں گھریلو تشدد کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دلوانے کے مطالبے کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ یاد رہے خواتین کی اس مہم کو ابتک 43 لبنانی ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

اس تحریک میں غیر ملکی گھریلو خواتین ملازمائیں بھی شامل ہیں کیونکہ قانون کی غیر موجودگی میں انہیں بھی مالکان کی طرف سے ایسے ہی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد مخالف مہم کی سرکردہ رہنما رویا روحانا نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق قانون سازی، انتخابی قوانین سے کم اہم نہیں۔ ان دنوں پارلیمنٹ میں انتخابی قوانین سے متعلق بحث جاری ہے۔