خلیجی سمندر پر محو پرواز ایرانی ڈرون کی تصویر پہلی مرتبہ منظرعام پر

'تہران ایسے ہی طیاروں کو جاسوسی مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ نیوز چینل کو ہفتے کی شب ملنے والی تصویر مناما حکام کے مطابق ایرانی ڈروں کی ہے جو خلیجی سمندر میں بحری سعودی عرب کے درمیان پرواز کرتے ہوئے اتاری گئی تھی۔

بحرینی وزیر اطلاعات سامیرا رجب کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایران کی جانب سے بحرینی معاملات میں مسلسل مداخلت کا اظہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری ہمارے [بحرینی] معاملات میں ایرانی مداخلت بند کرائے۔

ایران اور بحرین حکومت کے درمیان حالیہ کچھ عرصے سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تہران نے بحرین میں مقیم مذہبی رہنما آیت اللہ عیسی قاسم کے گھر پر گزشتہ ہفتے بحرینی سیکیورٹی فورسسز کے چھاپے کی مذمت کی تھی جس کا جواب مناما نے ایران پر اپنے اندرونی مداخلت کے الزام کی صورت میں عاید کیا تھا۔

بحرین کے چیف پبلک سیکیورٹی نے علامہ قاسم کے گھر چھاپے کا چنداں ذکر نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں آیت اللہ مقیم ہیں وہاں مقامی پولیس کے دو افسر مقامی طور پر تیار کردہ اسلحے کی زد میں آ کر زخمی ہوئے تھے۔

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے منگل کے روز رپورٹ کیا تھا کہ حکام نے ایران کے لئے جاسوسی کرنے والے دس افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں بھی ایک ایسے ہی قضیئے میں اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ایران نے اس معاملے سے قطعی لاتعلقی ظاہر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں