مصری فوج کا تمام جماعتوں کو تصفیے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم

فوجی نقشہ راہ میں ہر کسی کی گنجائش نہیں ہو گی: جنرل عبدالفتاح السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے تمام سیاسی قوتوں کو کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے تو پھر انھیں مستقبل کے لیے فوج کے نقشہ راہ کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس میں ہر کوئی شامل نہیں ہوگا۔

جنرل عبدالفتاح السیسی نے اتوار کو صدر محمد مرسی کے خلاف ریلیوں کو عوام کی راَئے کا ایک بے مثال مظاہرہ قرار دیا ہے۔مسلح افواج کے سربراہ کا ملک گیر مظاہروں پر یہ پہلا ردعمل ہے۔صدر محمد مرسی کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر حکومت مخالف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور صدر محمد مرسی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار اور اپوزیشن لیڈر حمدین صباحی نے صدر مرسی کے اقتدار نہ چھوڑنے کی صورت میں فوج سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''مسلح افواج کو اقدام کرنا چاہیے کیونکہ انھوں نے ہمیشہ عوام کی رائے کی طرف داری کی ہے''۔

مصر کی مسلح افواج نے گذشتہ روز حزب اختلاف کی اپیل پر احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ان کے شرکاء کی تعداد عدیم المثال تھی۔اس دوران فوجی ہیلی کاپٹردارالحکومت قاہرہ اور دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کے اوپر پروازیں کرتے رہے تھے اور انھوں نے مظاہرین کی جانب مصری پرچم بھی پھینکے تھے۔

گذشتہ روز ایک فوجی ذریعے نے العربیہ کو بتایا تھا کہ وزیردفاع اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی تمام صورت حال کو مانیٹر کررہے ہیں۔انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں صدر مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران خونریزی کی صورت میں مداخلت کی دھمکی دی تھی۔

جنرل عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ''آرمی ملک کے حالات خراب ہونے کی صورت میں خاموشی تماشائی نہیں بنے گی اور وہ تشدد کو روکنے کے لیے مداخلت کرے گی''۔انھوں نے مصریوں پر زوردیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتفاق رائے پیدا کریں اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں