.

مصر آنے والے شامیوں کے لئے ویزا اور سیکیورٹی کلیئرئنس لازمی قرار

شامی ہوائی جہاز مسافروں سمیت واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں پائی جانے والی حالیہ کشیدگی کے جلو میں حکومت نے شامی شہریوں پر بعض نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ قاہرہ حکام کی شامیوں کے لیے نئی پالیسی میں ویزے کی پیشگی منظوری اور سیکیورٹی حکام کی جانب سے اجازت لازمی قرار دی ہے۔

قاہرہ ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے گذشتہ روز شام کی سرکاری فضائی کمپنی کے ایک مسافر طیارے کو اس پرسوار تمام مسافروں سمیت واپس "لاذقیہ" ہوائی اڈے روانہ کردیا تھا۔ ہوائی جہاز کی انتظامیہ نے اور مصر کے لیے مسافر پروازیں چلانے والی کمپنیوں کوہدایت کی ہے کہ وہ مسافروں کو قاہرہ لانے سے قبل نئی پالیسی پرعمل درامد کو یقینی بنائیں۔ نئی پالیسی کے تحت شامی شہریوں کے لیے مصرکی طرف سے ویزے کی پیشگی منظوری کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی حکام کی جانب سے کلیرئینس کا ہونا بھی ضروری ہوگا۔

ائر پورٹ ذرائع نے اخبار"الاھرام" کو بتایا کہ پیر کے روز شام کی سرکاری فضائی کمپنی کی پرواز نمبر203 قاہرہ ہوائی اڈے پر اتری۔ جہازمیں عملے کے علاوہ پانچ مسافر سوار تھے۔ مسافروں کو جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں نئی سیکیورٹی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد ہوائی جہاز کو لاذقیہ واپس روانہ کردیا گیا۔

خیال رہے کہ شامی شہریوں کے حوالے سے مصری حکام نے ایک ایسے وقت میں شرائط میں مزید سختی کی ہے جب یہ پتہ چلا ہے کہ مصر میں ری پبلیکن گارڈز کے ہیڈ کواٹر پرحملے میں کچھ شامی بھی ملوث بتائے گئے ہیں۔

قاہرہ ہوائی اڈے کی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ پیر کے روز مڈل ایسٹرن فضائی کمپنی کی ایک پرواز کے ذریعےبیروت سے 55 شامی مسافر مصر پہنچے تھے، انہیں بھی فوری طورپر اسی پرواز سےدوبارہ بیروت بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر مختلف پروازوں میں مجموعی طورپر 39 شامی مصر پہنچے جنہیں پیشگی ویزے کی منظوری اور سیکیورٹی کلیئریئنس نہ ہونے کے باعث واپس بھیج دیا گیا۔

ایئرپورٹ حکام کے ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے مصر کے لیے پروازیں چلانے والی تمام فرموں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ شامی شہریوں کے لیے بیرون ملک مصری سفارت خانوں یا قونصلیٹ سے شامی شہریوں کے ویزوں کی منظوری کے بعد قاہرہ حکام سے بھی اس کی منظوری حاصل کریں ورنہ مسافروں کو واپس کردیا جائے گا۔

مصرمیں محکمہ پاسپورٹ کے ایک ذریعے نے میڈیا کو بتایا کہ "سابق معزول صدرڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت نے شامی شہریوں کو ملک میں داخلے کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی، جو سیکیورٹی حکام کے لیے سخت مشکلات کا باعث بنی ہے۔ذرائع کے مطابق شام میں جاری لڑائی کے نتیجے میں نقل مکانی کی آڑ میں کئی شدت پسند عناصربھی مصرمیں داخلے میں کامیاب ہوئے ہیں۔