.

امریکا، مصر کی فوجی امداد نہ روکے: اسرائیل کا مطالبہ

"امداد کی معطلی کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو متاثر کر سکتی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اپنے مشرق وسطی میں اپنے سیاسی اور سفارتی سرپرست اعلی واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ مصری فوج کی طرف سے منتخب صدر محمد مُرسی کی حکومت ختم کرنے کے تناظر میں قاہرہ حکومت کو دی جانے والی 1.3 بلین امریکی ڈالرز کی امداد نہ روکے۔

امریکی قانون کے مطابق اگر کسی بھی ملک میں فوج منتخب حکومت کو ہٹا دیتی ہے تو ایسی صورت میں اس ملک کو دی جانے والی تمام تر امریکی فوجی اور اقتصادی امداد روک دی جاتی ہے۔ تاہم واشنگٹن کی طرف سے ابھی تک یہ بات تسلیم نہیں کی گئی ہے کہ 30 جون کو مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ فوجی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔

کثیر الاشاعت عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے ایک امریکی سینئیر اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی قیادت اختتام ہفتہ پر بذریعہ ٹیلیفون کالز واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ قاہرہ حکومت کو امداد کی معطلی اسرائیلی سکیورٹی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ یہ عمل مصر کے ساتھ اس کے 1979ء میں کیے جانے والے معاہدہ امن کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے "ایف اے پی" کے مطابق امریکا کی طرف سے مصر کو دی جانے والی یہ سالانہ امداد دراصل اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد شروع کی گئی تھی، جس کے بعد سے یہ اب تک جاری ہے۔

اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا کی طرف سے اس امداد کی بندش سے مصری فوج خود کو اس امن معاہدے سے آزاد تصور کر سکتی ہے۔