شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان خان العسل میں شدید جھڑپیں

دو روز کی لڑائی میں شامی فوج کو بھاری جانی نقصان،150 فوجیوں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج نے شمالی قصبے خان العسل پر دوبارہ قبضے کے لیے باغیوں کے ٹھکانوں پر نیا حملہ کیا ہے جس کے بعد متحارب فوجوں کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق لڑائی میں شامی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور گذشتہ دوروز کے دوران ڈیڑھ سو فوجی مارے گئے ہیں۔ ان میں سے پچاس کو باغیوں نے پکڑنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے دس روز قبل صوبہ حلب میں واقع خان العسل پر قبضہ کیا تھا اور اب شامی فوج اس کو واگزار کرانے کے لیے حملہ آور ہے۔

اسی قصبے میں 19 مارچ کو شامی حکومت اور حزب اختلاف نے ایک دوسرے کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے تھے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے اس مبینہ حملے میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شامی حکومت نے باغیوں پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا اوراس کے اتحادی روس نے کہا تھا کہ اس کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

باغیوں نے اس الزام کی تردید کی تھی جبکہ امریکا کا کہنا تھا کہ اس کو باغیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔اب اقوام متحدہ کے تحقیقات کار ان الزامات کی تحقیقات کے لیے شام آرہے ہیں اور وہ ترکی میں بھی عارضی قیام کے دوران ان ہتھیاروں سے متاثرہ افراد سے پوچھ گچھ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں