اخوان نے احتجاجی دھرنے کے دفاع کی خاطر منجنیق نصب کر دی
اقدام حکومت کی جانب سے دھرنوں کے خلاف طاقت استعمال کی دھمکیوں کے بعد کیا گیا
مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں نے قاہرہ میں کئی ہفتوں سے جاری اپنے احتجاجی دھرنے کو طاقت کے زور پر منتشر کرنے کی حکومتی دھمکیوں کے بعد مظاہرین نے دھرنوں کی پولیس پر بھاری پتھر پھینکنے کے لئے منجنیق نصب کر دی ہیں۔
منجنیق کی تصاویر انٹرنیٹ پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ قاہرہ یونیورسٹی کے نزدیک النہضہ اسکوائر میں منجنیق کو محفوظ بنانے کے لئے اس قدیم ہتھیار کے اردگرد ریت کی بوریاں کھڑی کی گئی ہیں۔
معزول صدر مرسی کے حامیوں نے شمالی قاہرہ میں رابعہ العدویہ کے احتجاجی دھرنا کیمپ کو جانے والے راستوں پر کئی جگہ غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ فٹ پاتھ سے اینٹیں اکھاڑ کر ایک جگہ جمع کر دی گئیں تاکہ انہیں کسی پولیس کی متوقع کارروائی کے وقت استعمال کیا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے اسلام پسندوں کے دھرنوں کو سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد دونوں فریقین نے آخری معرکے کی بھرپور تیاریاں کرنا شروع کر دیں۔ گزشتہ روز عبوری عدلی منصور کی جانب سے مسائل کے حل کی خاطر بین الاقوامی ثالثی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد حکومتی ایکشن کے امکان بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔
عبوری وزیر حازم البیلاوی نے جمعرات کے روز اس حکومتی عزم کو ایک مرتبہ پھر دہرایا تھا کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔
ان دھرنوں کو منظم کرنے والی حکومت مخالف اخوان المسلمون نے اپنے احتجاج کو پرتشدد قرار دینے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں، بلکہ ہم پرامن جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی جگہوں کے گرد 'حفاظتی انتظامات' کا مقصد کسی متوقع تصادم کی صورت میں مظاہرین کو گزند پہچنے سے بچانا ہے۔