.

مصر میں بدامنی سے سیاحت اور کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں

سیاحت کا ملک کی مجموعی پیداوار میں 11 فیصد حصہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر ميں جاری سياسی بحران اور پرتشدد واقعات کی تازہ لہر نے ملکی سياحت کی صنعت اور کاروباری سرگرميوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر ديا ہے۔

مصری فوج کی حمايت يافتہ عبوری حکومت کی جانب سے رواں ہفتے اخوان المسلمون اور معزول صدر محمد مرسی کے حاميوں کے خلاف کريک ڈاؤن کے تناظر ميں بد امنی کی موجودہ لہر پورے ملک کو اپنی لپيٹ ميں لے چکی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں ميں اس وقت موجود سياحوں کو ہدايات جاری کی گئی ہيں کہ وہ اپنے اپنے ہوٹلوں سے باہر نہ نکليں۔ اسی دوران متعدد ملکوں کی جانب سے مصر کا سفر کرنے کے خلاف انتباہی احکامات بھی جاری کيے جا چکے ہيں۔

جرمنی ميں ٹريول گروپس ’تھوماس کک‘ اور ’ٹی يو آئی‘ نے گزشتہ روز يہ اعلان کيا ہے کہ مصر کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے وہ ستمبر کے وسط تک جرمنی سے مصر کے ليے تمام بکنگز منسوخ کر رہے ہيں۔

اسی طرح ايک اور يورپی ملک بيلجيم ميں بھی ’تھوماس کک‘ اور ’جیٹ ايئر‘ نامی ايئر لائن نے اگست کے آخر تک مصر کے ليے طے شدہ تمام پروازيں منسوخ کرنے کا فيصلہ کيا ہے۔

برطانيہ پہلے ہی اس سلسلے ميں انتباہ جاری کر چکا ہے۔ پرتشدد واقعات کی اس تازہ لہر کے تناظر ميں برطانوی حکام نے اپنے شہریوں کو مصر کے دور دراز مقامات کا سفر نہ کرنےکی بھی ہدایات دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت قريب چاليس ہزار برطانوی شہری شرم الشيخ اور اس کے قريبی جزائر پر موجود ہيں۔

ادھر فرانسيسی وزير خارجہ لاراں فابيوس نے اپنے ايک بيان ميں کہا کہ اگر مصر ميں حالات مزيد خراب ہوئے تو وہاں سے فرانسيسی باشندوں کو باہر نکالنے کے بارے میں سوچا جائے گا۔۔ ان کے بقول اس حوالے سے ایک منصوبہ بھی زير غور ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ديکھتے ہيں کہ حالات کيا رخ اختيار کرتے ہيں۔ تاحال فرانسيسی شہريوں کو يہی ہدايات ہيں کہ وہ اپنے گھروں يا ہوٹلوں کے اندر ہی رہيں۔‘‘

ماسکو انتظاميہ نے بھی اپنے ملک ميں فعال ٹريول ايجنسيوں کو ہدايات جاری کی ہيں کہ وہ لوگوں کو مصر کے ليے پيکيجز فروخت ترک کر ديں۔ مصر ميں اس وقت پچاس ہزار کے لگ بھگ روسی باشندے موجود ہيں۔ فن لينڈ، ناروے اورسويڈن ميں کام کرنے والے متعدد ٹريول گروپس نے بھی کہا ہے کہ وہ اس ہفتے کے اختتام پر مصر ميں موجود اپنے اپنے شہريوں کو واپس بلوا رہے ہيں۔ اسی دوران اٹلی، بيلجیم اور آسٹريا نے تو اپنے شہريوں کو مصر کی جانب سفر کرنے سے بالکل ہی منع کر ديا ہے۔

واضح رہے کہ سياحت مصری معيشت کے ليے کافی اہميت کی حامل ہے اور سن 2011 سے سياسی عدم استحکام سے قبل سياحت کی صنعت ملک کی مجموعی قومی پيداوار ميں سالانہ گيارہ فيصد کی حصہ دار تھی۔

درايں اثنا متعدد بین الاقوامی اداروں نے بھی مصر میں اپنی سرگرمیاں معطّل کر دی ہیں۔ الیکٹرونک آلات بنانے والی سویڈش کمپنی الیکٹرولکس کے ترجمان ڈینیئل فرائکہولم نے بتایا کہ ملازمین کو فیکٹريوں میں آنے کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے اور ان حالات میں یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ان کے بقول پیشگی حفاظتی انتظامات کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے اپنے ملازمین سے گھروں پر رہنے کے لیے کہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ متعدد اداروں، جن میں جنرل موٹرز، شیل، سوزوکی، ٹویاٹا، بی اے ایس ایف اور ہائنیکن شامل ہیں، نے غیر معینہ مدت کے لیے وہاں قائم اپنی فیکٹریاں بند کر دی ہیں۔ قاہرہ میں جرمن ریٹیل ادارے میٹرو نے بھی اپنا مرکزی دفتر عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔