.

اقوام متحدہ امریکا کو جارحیت سے روکے: شام کا مطالبہ

امریکا جارح کے بجائے امن کے علمبردار ملک کا کردار ادا کرے: بشار جعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کو روکے۔

امریکی صدر براک اوباما کی اختتام ہفتہ پر شام کے خلاف حملے کی دھمکی کے بعد یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشارالجعفری نے کیا ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اور سلامتی کونسل کی صدر ماریہ کرسٹینا پرسیوال کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے یواین سیکرٹری جنرل پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف کسی بھی جارحیت کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کریں اوربحران کے سیاسی حل کے لیے کوششیں کریں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ خبر کے مطابق بشارجعفری نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ بین الاقوامی قانونی عمل داری سے ماورا طاقت کے غیرمنطقی اور بلاجواز استعمال کو روکنے کے لیے سیفٹی والوکے طور پر کردار ادا کرے''۔

انھوں نے لکھا کہ ''امریکا امن کے علمبردار کے طور پر کردار ادا کرے اور شام کے بارے میں بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرے اور وہ ایسی ریاست کے طور پر کردار ادا نہ کرے جو اپنی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف طاقت کا بے مہابا استعمال کرتی ہے''۔

امریکی صدر براک اوباما نے ہفتے کے روز شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری چاہیں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اتوار کو ٹی وی انٹرویوز میں کہا تھا کہ واشنگٹن کو ایسے نمونے مل گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دمشق کے نواح میں حملے کے لیے سارن گیس استعمال کی گئی تھی اور شامی رجیم نے اس حملے کا حکم دیا تھا۔

بشار جعفری نے امریکی وزیرخارجہ کے اس دعوے کو مسترد کردیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دہشت گردوں کی من گھڑت کہانیوں ہی کو اپنا لیا ہے اور یہ انٹرنیٹ سے حاصل کردہ جعلی تصاویر پر مبنی ہیں۔

جان کیری نے اتوار کو این بی سی اور سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ 21 اگست کو دمشق کے نواح میں حملے کی جگہ سے ایمرجنسی ورکروں نے بالوں اور خون کے جو نمونے امریکا کو دیے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے مِیں طاقتور اعصابی گیس سارن استعمال کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور باغی جنگجوؤں دونوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے اس حملے میں کردارسے انکار کیا ہے اوراس کی مذمت کی ہے لیکن امریکا کو یقین ہے کہ یہ حملہ شامی حکومت ہی نے کیا تھا۔ اس واقعے میں ایک ہزار سے چودہ سو کے درمیان افراد مارے گئے ہیں۔