.

القاعدہ گروپوں کے حملوں کی شامی اپوزیشن کیطرف سے مذمت

شام کے شمالی علاقوں میں انقلابی فوج اور القاعدہ ٹکراو میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے القاعدہ کی طرف سے باغی افواج پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں عراق کو اسلامی ریاست بنانے کیلیے کوشاں القاعدہ گروپ ملوث ہے۔

شام کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے شام کی انقلابی افواج کے خلاف ان جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کی اور کہا یہ اہل شام کی زندگیوں کی بار بار بے وقعتی کے مترادف ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے القاعدہ کی ان کارروائیوں اور رویے کو انقلاب سے متصادم انقلاب دشمنی پر مبنی قرار دیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے القاعدہ کے حامی گروپ'' آئی سی آئی سی '' کی جانب سے ترک سرحد سے متصل قصبے عزاز پر قبضے کی کوشش اور اس طرح کی دوسری کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا انقلابی فوج کے ساتھ ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ اور باب سلمہ کو قبضے میں لینے کی کوشیش افسوسناک ہیں۔

واضح رہے القاعدہ کے حامی گروپوں اور شام کی انقلابی افواج کے درمیان حالیہ چند ماہ میں کشیدگی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ شام کے شمالی علاقے جہاں انقلابیوں کی پوزیشن مضبوط میں یہ واقعات زیادہ پیش آئے ہیں۔