اخوان المسلمون پر پابندی، ناقابل عمل اور پر خطر ہے: ماہرین

مسئلہ سیاسی ہے، جسے عدالتی طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کی تاریخ اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے اخوان المسلمون پر عدالت کے ذریعے عائد کی گئی پابندی کو عملا ایک مشکل، ناقابل عمل اور پر خطر فیصلہ قرار دیا ہے۔ ماہرین سیاست جن میں امریکی اور مصری جامعات کے پروفیسر حضرات بھی شامل ہیں کا کہنا ہے '' کہ اخوان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ جب اس پر پابندی لگی تو اس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور یہ پہلے سے بھی زیادہ موثر ہو گئی۔''

ان ماہرین کے خیال میں اخوان پر پابندی عائد کرنا اس لیے بھی عملی مشکلات کا حامل فیصلہ ثابت ہو گا کہ اخوان المسلمون کی طرف سے عوامی خدمت کا کام، تعلیم ، صحت، اور سماجی بہبود کے دیگر شعبوں میں بہت پھیلا ہوا ہے، نیز ایک طویل تاریخ رکھںے والی اس کالعدم کی گئی تنظیم سے مصر کا ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی حوالے سے قربت کے رشتے میں منسلک ہے۔

نہ صرف یہ کہ اس تنظیم کے ساتھ بہت سے لوگوں کی نظریاتی وابستگی بڑی گہری ہے بلکہ اخوان المسلمون کے ساتھ بہت سے مصری عوام کے معاشی مفادات، بھی وابستہ ہو چکے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں کے دوران اس کی حیثیت ایک خاندانی رشتوں میں ڈھل جانے والے لوگوں کی تنظیم کی ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کے خیال میں اس جماعت کو عدالتی فیصلوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ پیر کے روز مصر کی ایک عدالت نے عبوری حکومت کی درخواست پر الاخوان کو غیر قانونی قرار دے کر اس کے اثاثے منجمد کرنے اور اس کے ذیلی اداروں کے علاوہ عوامی مینڈیٹ سے برسر اقتدار آنے والی حریت اور انصاف پارٹی کو بھی کام کی اجازت سے محروم کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مصر میں تشدد کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اخوان کی سر گرمیاں زیر زمین جا سکتی ہیں۔

قاہرہ میں قائم امریکی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی پروفیسر رباب المہدی اخوان پر پابندی کے فیصلہ پر کہنی ہے '' اس پابندی کی صورت قانونی ہو گی نہ کہ عملی جس سے اخوان کو ختم کیا جا سکے، کیونکہ ماضی میں اس طرح کی پابندی سے اخوان زیادہ پھلی پھولی اور اس نے عوامی سطح پر مقبولیت حاصل کی ہے ۔''

واضح رہے 1928 میں قائم ہونے والی اخوان المسلمون پر 2011 میں حسنی مبارک کے دور کے بعد تک پابندی عائد رہی ہے لیکن بحال ہوتے ہی عوامی مینڈیٹ سے اس کے حمایت یافتہ لوگ جمہوری طریقے اقتدار میں آ گئے تھے۔ جنہیں جنرل عبدالفتاح السیسی نے اقتدار سے الگ کر کے جیلوں میں ڈالا ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک اس تنظیم کے تعلیمی ادارے، ہسپتال، سماجی بہبود کے خیراتی اور خدماتی ادارے اس کے عوام میں نچلی سطح تک اثرات کی چغلی کھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے مصر میں انسانی حقوق کے ادارے کی ڈائریکٹر حبا معارف کا کہنا تھا ''عدالتی فیصلے سے اخوان کے ممبران کو منہ کے بل گرانا یا انہیں جیلوں میں بند کرنا آسان نہیں ہو گا کہ یہ کام پہلے ہی سے کرنے کی کوشش جاری ہے اصل سوال اخوان کے اداروں کی مالیات کا ہو گا۔''

انہوں نے ایک عالمی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا '' ہر چیز اس تنظیم کے ڈھانچے کو توڑنے کے حوالے سے اہم ہے ، جہاں تک موجودہ عدالتی کوشش کا تعلق ہے یہ مسائل پیدا کرنے والی ہو گی کہ اس سے ہر وہ فرد متاثر ہو گا جو کسی نہ کسی حوالے سے اخوان سے منسلک ہے ۔'' حبا معارف نے کہا '' ان سنڈ یکیٹس کا کیا کیا جائے گا جن پر اخوان کا غلبہ ہے اوروہ ادارے مصری عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔''

پروفیسر رباب المہدی نے کہا ''اخوان کی ذیلی تنظیموں کی موجودگی میں اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد مشکل ہو گا، یہ جماعت درحقیقت ایک ''بلیک باکس'' کی طرح ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ یہ کتنی گہرائی تک ٹوٹا ہے ۔'' انہوں نے مزید کہا ''یہ گروپ اب ہر شعبے میں موجود ہے حتی کہ کاروبار میں بھی موجود ہے۔''

ان ماہرین کے مطابق مبارک دور میں اس تنظیم نے خود کو نہ صرف نظریاتی اعتبار سے بلکہ باہمی مفادات، کاروبار، تجارت، معاشی معاہدوں، ذاتی اور خاندانی حوالے سے بھی وفاداریوں کے ایک دھارے میں پرو لیا ہے۔ جبکہ عدالتی فیصلے پر اپیل کا حق بھی موجود ہے اور اعلی عدالتیں اس فیصلے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ ماہرین اس بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ فیصلہ برقرار رہا تو پھر بھی یہ ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔'' اس سے مصر کے حقیقی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق مسئلہ سیاسی ہے جسے عدالتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں