عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل فہمی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے انہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ جانے سے روک دیا ہے۔ نبیل فہمی عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل بننے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے سلسلے میں فلسطینی اتھارٹی کے دورے پر رام اللہ جانا چاہتے تھے۔
فلسطینی اتھارٹی کے دفتر نے عرب ممالک کی سب سے بڑی تنظیم کے دفتر کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی قابض حکام نے ان کے دورے کی اجازت نہیں دی ہے بلکہ ممکنہ آمد کو روکتے ہوئے کہا ہے کہ عرب لیگ کے عہدے دار کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔
سیکرٹری جنرل نبیل فہمی رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کرنے والے تھے۔ لیکن ان کی آمد کو ہی روک دیا گیا ہے۔ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل نے 1067 سے ناجائز قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس لیے مقبوضہ مغربی کنارے سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عرب رہنماؤں کو بھی آزادانہ آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
غزہ میں طویل جنگ اور اس کے بعد بھی خونریزی جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کو سلسلہ شد و مد سے جاری ہے۔ نیز مقبوضہ مغربی کنارے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل یہودیوں بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
نبیل فہمی نے کہا مقبوضہ علاقے میں فلسطینی اتھارٹی زیر محاصرہ ہے۔ سارے فلسطینی شہروں اور قصبوں کی بھی ناکہ بندی کر رکھی گئی ہے۔ انہیں یہودی آباد کار بھی جابرانہ دہشت گردی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ان یہودی حملہ آوروں کو اسرائیلی فوج کی طرف سے پوری حوصلہ افزائی اور پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں نے مجموعی طور پر 1087 فلسطینی شہید کیے ہیں۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی وزارت صحت کے مرتب کردہ ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس دوران 46 اسرائیلی بھی مارے گئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل عرب لیگ نبیل فہمی مصر کے ایک ویٹرن سفارت کار ہیں۔ جو پچھلے ماہ ہے 22 رکنی عرب لیگ کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ اپنے عرب دنیا کے دوروں کا آغاز فلسطینی علاقے سے کرنا چاہتے تھے۔ مگر اسرائیل نے منظوری نہیں دی ہے۔