.

قطر میں مزدوروں کا استحصال نہیں ہو رہا: نیپال

تین لاکھ 40 ہزار سے زائد نیپالی شہری قطر میں کام کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیپالی اور قطر حکام نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ان رپورٹوں کی تردید کی ہے، جن کے مطابق قطر میں کام کرنے والے نیپالی مزدورں کو جان لیوا حالات کا سامنا ہے۔

دوحہ میں نیپالی شہریوں کے قانونی مشیر محمد رمضان نے قطری حکام کی معیت میں منگل کے روز مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ملک قطر میں غیر ملکی مزدوروں کے لیے حالات سازگار ہیں اور وہ محفوظ ہیں۔

قبل ازیں برطانوی اخبار گارجئین نے یہ انکشاف کیا تھا کہ قطر میں سن 2022ء میں منعقد ہونے والے عالمی فٹ بال کپ مقابلوں کی تیاریوں کے سلسلے میں جاری تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے غیر ملکی مزدروں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

اس برطانوی اخبار کے مطابق حالیہ موسم گرما کے صرف ایک ماہ کے دوران قطر میں کام کرنے والے تقریباﹰ 44 نیپالی مزدور انہی ناسازگار حالات کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ چند روز پہلے نیپال حکومت نے قطر میں تعینات اپنی خاتون سفیر مایا کماری شرما کو بھی واپس بلا لیا تھا۔ کماری شرما نے قطر میں مزدوروں کے حقوق کی پامالیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس ملک کو مزدوروں کے لیے ایک ’کھلی جیل‘ قرار دیا تھا۔

نیپالی حکومت کی طرف سے اپنے شہریوں کے لیے مقرر کیے گئے قانونی مشیر محمد رمضان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم اس غلط رپورٹ کے تمام نکات کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے ذمہ داروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نیپالی مزدوروں کو اپنے مقاصد اور اہداف کے لیے استعمال نہ کریں۔‘‘ محمد رمضان کا زور دیتے ہوئے مزید کہنا تھا، ’’ تمام نیپالی کارکن محفوظ ہیں اور باعزت حالات میں کام کر رہے ہیں۔‘‘

نیپالی حکام کے مطابق اس وقت ان کے تین لاکھ 40 ہزار سے زائد شہری قطر میں کام کر رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر تعمیراتی منصوبوں سے منسلک ہیں۔ محمد رمضان کے مطابق گزشتہ برس 276 نیپالیوں کا قطر میں انتقال ہوا اور ان میں سے صرف بیس فیصد ایسے تھے، جن کا انتقال کام کے دوران ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر نیپالی شہریوں کی یا تو طبعی یا پھر حادثاتی موت واقع ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں برس قطر میں 151 نیپالیوں کا انتقال ہوا اور ان میں سے صرف 10 فیصد اپنے کام پر تھے۔
تاہم برطانوی اخبار نے کہا ہے کہ ان کی رپورٹ حقائق پر مبنی ہے اور اس سلسلے میں قطر میں نیپالی سفارتخانے کی دستاویز کا حوالہ دیا گیا ہے، جو کہ اصلی ہیں۔