.

"پانچ ہزار ڈالر کے عوض روسی جنگجو بشار الاسد کی جنگ لڑ رہے ہیں"

اجرتی قاتلوں میں قوقاز اور تاجکستان میں لڑنے والے فوجی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہےکہ شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے غیر ملکی گروپوں میں ماسکو سے تعلق رکھنے والی "السلافیہ" نامی تنظیم کے کرائے کے قاتل بھی شامل ہیں جو کس پانچ ہزار ڈالر اجرت پر جنگ لڑ رہے ہیں۔

روسی زبان کے ایک نیوز ویب پورٹل "ونٹانکا" کی رپورٹ کے مطابق "السلافیہ" نامی تنظیم کی جانب سے انٹرنیٹ پر باقاعدہ اشہارات شائع کیے جا رہے ہیں جن میں شامی جنگ میں حصہ لینے کے خواہش مند اجرتی قاتلوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ جنگ میں حصہ لینے کےعوض انہیں پانچ ہزار ڈالر کا پر کشش معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شام میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کے خواہش مند روسی نوجوان اور کرائے کے قاتل انٹیلی جنس کے ایک ریٹائرڈ کرنل سے رابطہ کرتے ہیں۔ سابق انٹیلی جنس افسران کے انٹرویو کرنے کے بعد بھرتی کرتا ہے۔ شامی جنگ کے لیے بھرتی ہونے والوں میں سابق فوجی اہلکار بالخصوص قوقاز اور تاجکستان کی جنگ میں حصہ لینے والے فوجی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق "السلافیہ" تنظیم کے جنگجوؤں کا پہلا گروپ ماسکو سے بری راستے سے پہلے دمشق پہنچا جہاں سے انہیں ہوائی جہاز کے ذریعے اللاذقیہ اور طرطوس کے درمیان واقع فوجی اڈے پر لے جایا گیا تھا۔

رپورٹ میں شام کے محاذ جنگ میں بشارالاسد کی مدد کو پہنچنے والے ان روسی کرائے کے قاتلوں کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے ملک سے شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع اور باغیوں کی سرکوبی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ روسی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حمص کے قریب باغیوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن میں حصہ لیا مگرمعرکے میں انہیں باغیوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ حمص کے قریب ایک بار جب وہ باغیوں کے گھیرے میں آ گئے اوران کی جانیں خطرے میں پڑگئی تھیں تاہم اچانک صحراء میں ریت کا طوفان اٹھا جس میں چھپ کر وہ محاذ سے فرار میں کامایب ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ روسی حکومت کی جانب سے بشار الاسد کی اندھی حمایت کے باوجود ان خبروں کی غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ روسی جنگجو بھی اس جنگ میں حصہ لے رہےہیں۔ البتہ گذشتہ مہینے [اکتوبر میں] شامی باغیوں نے حمص میں ایک روسی جنگجو کمانڈر الیکسی مالیوٹی کے قتل کا دعویٰ کیا تھا۔