.

معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی جامعہ الازہر سے مستعفی

شیخ الازہر احمد الطیب پر ''طاغوتی حکومت'' کی حمایت کرنے پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے وابستہ عالمی شہرت یافتہ عالم دین علامہ شیخ یوسف القرضاوی جامعہ الازہر کی گورننگ باڈی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

علامہ قرضاوی نے ٹویٹر اور فیس بُک پر اپنے صفحے پر لکھا ہے کہ ''میں نے استعفیِ دے دیا ہے''۔انھوں نے تاریخی جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فوجی انقلاب کی حمایت کی تھی۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ''ہم شیخ الازہر کا انتظار ہی کرتے رہ گئے کہ وہ راہ راست پر آجائیں گے اور خود کو طاغوتی رجیم سے لاتعلق کرلیں گے''۔ان کا اشارہ مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کی جانب تھا۔

مصری نژاد علامہ قرضاوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی شدید مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

وہ قطر کے سیٹلائٹ چینل الجزیرہ پر باقاعدہ مذہبی موضوعات پر تقریریں کرتے رہتے ہیں اور انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں مصریوں پر زوردیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مرسی کو ان کے آئینی عہدے پر بحال کریں۔

علامہ قرضاوی کی اس وقت عمر چھیاسی برس ہے۔وہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پانچ عشرے قبل سابق صدر جمال عبدالناصر کے دور میں ان کو حکومت پر تنقید کی پاداش میں آبائی وطن کی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا اور وہ تب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رہ رہے ہیں۔

جمال عبدالناصر کے دورحکومت میں اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنان پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑے گئے تھے اور علامہ قرضاوی کو 1950ء کے عشرے میں کئی مرتبہ جیل میں ڈالا گیا تھا جس کے بعد وہ 1961ء میں مصر سے ہجرت کرکے قطر چلے گئے تھے۔

وہ فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی عوامی احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کے معاً بعد اپنے آبائی وطن لوٹے تھے اورانھوں نے پورے پچاس سال کے بعد پہلی مرتبہ اپنی آبائی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔انھوں نے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں ہزاروں افراد کے اجتماعات سے خطابات کیے تھے اورنمازوں میں ان کی امامت کی تھی۔