.

شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان سرحدی قصبے میں شدید لڑائی

شمالی شہر الرقہ میں سرکاری فوج کے فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے النبک میں شدید لڑائی ہورہی ہے اور شامی فوج نے اس محاذ پر پیش قدمی کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ النبک میں سرکاری فورسز کی القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق وشام اور النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔شامی فوج کو لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد بھی حاصل ہے۔

بیان کے مطابق صدر بشار الاسد کے وفادار فوجیوں نے قصبے میں بعض نئے سیکٹروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔شامی فوج نے گذشتہ دوہفتے سے دارالحکومت دمشق کے شمال مشرق میں واقع اس قصبے کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ مسلسل بمباری کررہی ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی اطلاع دی ہے کہ فوج نے قلمون کے پہاڑی علاقے میں واقع النبک میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کو دہشت گردوں کا ایک ایسا گھر ملا ہے جس سے طبی آلات اور ادویہ برآمد ہوئی ہیں۔شامی میڈیا باغی جنگجوؤں کے لیے دہشت گردوں کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

حزب اختلاف کے ایک گروپ شامی قومی کونسل کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اس قصبے سے سرکاری فوج کی شدید گولہ باری کے بعد مردوں ،عورتوں اور بچوں کی چالیس لاشیں نکالی گئی تھیں۔اگر شامی فوج کا النبک پر قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر اس کا دمشق اور وسطی صوبے حمص کے درمیان شاہراہ اور علاقے پر بھی کنٹرول مضبوط ہوجائے گا۔

فضائی حملے

درایں اثناء شامی فوج نے جہادیوں کے زیر قبضہ شمالی شہر الرقہ پر اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان میں مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔ان میں پانچ خواتین اور چھے اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔

اس سے پہلے فضائی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد چودہ بتائی گئی تھی۔الرقہ اسی نام کے صوبے کا دارالحکومت ہے اور یہ واحد بڑا شہر ہے جس پر شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران باغی جنگجوؤں کا قبضہ ہوا تھا۔

ادھر لبنان کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ فوجیوں نے سرحد عبور کرکے لبنانی علاقے کی جانب آنے والے تین مسلح شامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔