قاہرہ میں وزارت دفاع کے باہر طلبہ مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ
پولیس اور طلبہ میں جھڑپیں،مظاہروں پر پابندی کے قانون کی خلاف ورزی جاری
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک ہزاروں اسلام پسند طلبہ نے فوجی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا ہے جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے اشک آور گیس کی شیلنگ کی ہے اور ان پر پانی پھینکا ہے۔
طلبہ مظاہرین وزارت دفاع کی جانب جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انھیں بزور روکنے کی کوشش کی اور ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے جس کے بعد مظاہرین نے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا اور ان کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے خلاف اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت میں مصری جامعات کے طلبہ کے مظاہرے روزبروز شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔گذشتہ روز طلبہ نے جامعہ قاہرہ اور جنوبی شہر اسیوط میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔پولیس نے جامعہ قاہرہ کے سات اور اسیوط سے اٹھارہ طلبہ کو مظاہروں کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔
تاریخی جامعہ الازہر کے طلبہ پہلے تو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کررہے تھے لیکن اب وہ اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کے لیے گذشتہ ایک ہفتے سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔جامعہ الازہر کے سربراہ نے اگلے روز پولیس کو طلبہ کو مظاہروں سے روکنے کے لیے کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔
مصر کی مسلح افواج کےتحت عبوری حکومت نے حال ہی میں ہر طرح کے مظاہروں کی روک تھام کے لیے ایک متنازعہ قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع اور ریلی کی حکومت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے لیکن اس قانون کے نفاذ کے باوجود قاہرہ اور دوسرے شہروں میں جامعات کے طلبہ اور اخوان المسلمون کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
حکومت نے قاہرہ کے معروف چوکوں اور چوراہوں، میدان التحریر ،رابعہ العدویہ اور النہضہ اسکوائر کی جانب مظاہرین کو ریلیاں لے کر جانے سے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کررکھی ہے جس کے بعد اب جامعات طلبہ کے احتجاج کا میدان بن چکی ہیں۔