یمن: شادی میں جانے والے قافلے پر ڈرون حملہ، 13 ہلاک

حملہ القاعدہ کے گڑھ رادا شہر کے قریب ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شادی میں جانے والی گاڑیوں کے امریکی ڈرون کی زد میں آ جانے سے کم از کم 13 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ہلاکتوں کا یہ واقعہ وسطی یمن میں صوبے بایدہ کے شہر رادا میں پیش آیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کا شکار ہونے والوں کی لاشیں جل گئیں جبکہ گاڑیوں کے بھی محض ڈھانچے رہ گئے۔ واضح رہے رادا شہر القاعدہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ پچھلے سال سکیورٹی فورسز مقامی قبائل کی مدد سے القاعدہ کو اس شہر سے نکانے کی کوشش کر چکی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے فی الحال ہلاک شدگان کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔ ابھی اس بارے میں حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا یہ عسکریت پسند تھے جو نشانہ بنے یا عام لوگ تھے جنہیں غلطی سے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے خیال میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق غلطی سے شادی میں جانے والوں کو ڈرون حملے کا ہدف بنایا گیا ہے۔ ان اطلاعات میں کہا گیا ہے قبائل کے لوگ سمجھتے ہیں مرنے والوں میں دیہاتی بھی شامل ہیں۔

تاہم تین سکیورٹی حکام میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یہ القاعدہ کے عسکریت پسند ہی تھے جو شادی میں جانے والے قافلے کی ہمراہی میں جا رہے تھے۔ دوسری جانب امریکا نے بھی ڈرون حملے کے پروگرام کی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ عمومی طور پر امریکی ڈرون موضوعات پر کم ہی بات کرتے ہیں۔

مقامی سطح پر لوگ ڈرون حملوں کیخلاف ہیں۔ اگر یہ تصدیق ہو گئی کہ حملے میں عام لوگ مارے گئے ہیں تو اس سے عوامی سطح پر ڈرونز کے بارے میں ردعمل بڑھ جائے گا۔ اس سے پہلے ماہ اکتوبر میں اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا شعبہ بھی امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں