.

بھوک ہڑتال کا ریکارڈ قائم کرنے والا فلسطینی قیدی جیل سے رہا

اسرائیلی پولیس نے خاندان کو جشن منانے سے روک دیا، پرچم اتارنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کا ریکارڈ قائم کرنے والے فلسطینی سامر العیساوی کو آج سوموار کو سترہ ماہ کی قید کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سامر العیساوی کا خیرمقدم کرنے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کا جم غفیر موجود ہے اور انھیں اپنے گھر تک پہنچنے میں دو گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔انھیں اسرائیل کے شمال میں واقع جیل شاطہ سے رہا کیا گیا ہے۔

سامر العیساوی نے 226 روز تک مسلسل بھوک ہڑتال کی تھی اور اس دوران وہ صرف پانی پیتے اور انجیکشن کے ذریعے وٹامن لیتے رہے تھے۔انھوں نے اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان رہائی کے لیے سمجھوتا طے پاجانے کے بعد 23 اپریل کو اپنی ریکارڈ بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔

اس سمجھوتے میں یہ طے پایا تھا کہ انھیں پیرول کی شرائط کی خلاف ورزی پر آٹھ ماہ مزید قید بھگتنا ہوگی اور اس کے بعد انھیں رہا کردیا جائے گا۔ سامرالعیساوی کو اس سے پہلے 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں اسرائیلی پولیس کی کاروں اور مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی کے طلبہ پر حملوں کے الزام میں 30 سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

انھیں اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے طے شدہ معاہدے کے تحت اکتوبر 2011ء میں رہا کیا گیا تھا۔مصرکی سابق حکومت کی ثالثی میں قیدیوں کے تبادلے کے اس معاہدے کے تحت حماس نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو رہا کیا تھا اور اس کے بدلے میں اسرائیل نے قریباً ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

سامر العیساوی کو نوماہ کے بعد جولائی 2012ء میں اسرائیلی فورسز نے برطانوی انتداب کے دور سے تعلق رکھنے والے انتظامی حراستی قانون کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔اس قانون کے تحت اسرائیل کے لیے خطرے کا موجب کسی بھی فلسطینی کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

عیساوی نے اپنی گرفتاری کو چیلنج کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف بھوک ہڑتال کردی تھی جس سے ان کی حالت بگڑنا شروع ہوگئی۔ان کی رہائی کے لیے انٹرنیٹ پر بھی مہم چلائی گئی تھی اور فیس بُک پر اس مہم کو دس ہزار سے زیادہ افراد نے لائیک کیا تھا۔

اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے لیے برپا کردہ سیاسی کارکنان کی عالمی مہم نے صہیونی تسلط کے خلاف ان کی کامیاب بھوک ہڑتال پر مبارک باد پیش کی تھی اور اب اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ہم سامر کی رہائی کے معاملے کی بڑے قریب سے نگرانی کررہے ہیں۔اگر صہیونی حکام نے طے شدہ سمجھوتے کی خلاف ورزی کی تو ہم دوبارہ مہم برپا کردیں گے۔

اس مہم نے اتوار کو اطلاع دی تھی کہ اسرائیل کی دہشت گردی کی پولیس نے عیساوی کے خاندان سے کہا ہے کہ وہ کوئی خوشی نہ منائیں اور اپنے گھر پر لگے پرچموں کو اتار دیں۔تاہم ان کے گاؤں عیساویہ اور مقبوضہ بیت المقدس کے مکینوں نے ان کی رہائی کی صورت میں جشن منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری دنیا ہمارے ساتھ اس موقع پر جشن منائے گی اور کوئی بھی ہمیں اس سے نہیں روک سکتا۔