.

مصر کا نیا صدر سویلین ہونا چاہیے:عمرو موسیٰ

آرمی چیف جنرل السیسی صدارتی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں تو پہلے عہدہ چھوڑیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دستور ساز پینل کے سربراہ عمرو موسیٰ کا کہنا ہے کہ ملک کا نیا صدر کوئی فوجی نہیں بلکہ سویلین ہونا چاہیے۔

انھوں نے یہ بات لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر آرمی چیف جنرل عبدالفتاح السیسی صدارتی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں تو پہلے انھیں اپنا فوجی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں ایک محب وطن شخص (صدر) کی ضرورت ہے جو لوگوں کو اس بات کا یقین دلائے جو وہ چاہتے ہیں اور جو ملک کو بہتری کی جانب لے جائے۔

عمروموسیٰ کا کہنا تھا کہ ''آج ہم جمہوری نظام کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔اگر جنرل السیسی صدارتی امیدوار بن جاتے ہیں اور ہم ان کو جمہوریت کی بنیاد پر چار سال کے لیے منتخب کرنا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ ایک مدت پوری کریں اور پھر صدر کے عہدے کے لیے دوبارہ امیدوار بنیں''۔

انھوں نے بتایا کہ آئین کے تحت ایک شخصیت صرف دو مرتبہ ہی صدر بن سکتی ہے۔واضح رہے کہ عمرو موسیٰ کی قیادت میں دستور ساز کمیٹی نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے دور حکومت میں وضع کردہ دستور میں ترامیم کی ہیں اور اس کی منظوری کے لیے منگل اور بدھ کو ریفرینڈم کا انعقاد کیا گیا ہے۔ابھی مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے ریفرینڈم کے حتمی نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔

عمرو موسیٰ سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر محمد مرسی کے مقابلے میں صدارتی امیدوار تھے لیکن وہ پہلے مرحلے میں ہی شکست سے دوچار ہوگئے تھے۔وہ ایک طویل عرصے تک مصر کے وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔