.

شامی اپوزیشن اتحاد کی جنیوا ٹو سے الگ رہنے کی دھمکی

دھمکی کی وجہ بانکی مون کیجانب سے ایران کو دی گئی دعوت بنی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن اتحاد نے دھمکی دی ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران کو جنیواٹو میں شرکت کی دعوت ملنے کی وجہ سے وہ خود کو اس امن مذاکراتی عمل سے الگ کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام کے تنازعے سے نمٹنے کیلیے ایرانی خدمات کی تعریف کی ہے۔
جنیوا ٹو کے سلسلے میں مذاکراتی عمل کا آغاز بدھ کے روز سوئٹزر لینڈ میں ہونے والا ہے۔

شامی اپوزیش نے جنیواٹو میں شرکت کا فیصلہ صرف دو روز قبل ہفتے کے روز عالمی دباو کے بعد کیا ہے، تاہم شامی اتحاد میں شامل 120 جماعتوں میں سے 45 جماعتیں اس اجلاس سے دور رہی ہیں، جس میں شرکت کے حق میں فیصلہ کیا گیا ہے۔

اب بان کی مون کے بیان نے شامی اپوزیشن کو ایک مرتبہ پھر جنیواٹو سے دور کر دینے کا اشارہ دیا ہے۔ امریکا نے بھی بان کی مون پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو جنیوا ٹو میں شرکت کی دعوت صرف اس صورت میں دیں کہ ایران شام میں عبوری بندوبست کیلیے صاف صاف حمایت کرے اور جنیواٹو کی کھلی تائید کرے۔

امریکی ترجمان جین پاسکی کے مطابق'' ہم ایران سے جو توقعات رکھتے ہیں ایران نے اس سے پہلے کم از کم ان توقعات کو پورا نہیں کیا ہے۔'' بان کی مون نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایران کو جنیوا ٹو میں شرکت کی دعوت دینے کا اعلان کیا ہے۔

بان کی مون نے اس موقع پر کہا '' ایرانی وزیر خارجہ نے بار بار یہ یقین دلایا ہے کہ اگر ایران کو جنیواٹو میں شرکت کیلیے دعوت دی گئی تو ایران انتہائی مثبت کردار ادا کرے گا۔''

دوسری جانب امریکا اور مغربی ممالک ایران کو جنیوا ٹو میں شرکت کی دعوت دینے کیخلاف ہیں۔ اس سے پہلے ایران 30 جولائی 2012 کو جنیوا امن کانفرنس میں سامنے آنے والے اعلامیے کی مخالفت کر چکا ہے۔

شامی اپوزیشن اتحاد بشارالاسد کے حوالے سے بھی سخت تحفظات رکھتا ہے جبکہ اس کے مشرق وسطی میں سب سے بڑے اتحادی ایران کی شمولیت بھی اپوزیشن اتحاد کیلیے قابل قبول نہیں ہے۔