.

قاہرہ میں تین دھماکے، 4 ہلاک، ساٹھ سے زائد زخمی

پولیس ہیڈکوارٹرز اور نیشنل لائبریری سمیت متعدد عمارتوں کو نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس ہیڈ کوارٹرز کے قریب جمعہ کی صبح ہونے والے خوفناک کار بم دھماکے کے بعد دو مزید دھماکوں سے دارالحکومت لرز گیا جن مین کم از کم چار افراد ہلاک اور 54 زخمی ہو گئے ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ شہر میں کئی گھنٹوں تک دھواں اٹھتا دکھائی دیتا رہا۔ غیر معمولی سکیورٹی انتظامات نے مزید خوفناکی پیدا کر دی ہے۔

نئے دستور کیلیے 15 اور 16 جنوری کو کرائے گئے ریفرنڈم اور فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے امکانی طور پر صدارتی انتخاب کے بعد قاہرہ میں اپنی نوعیت کے بڑے بم دھماکے ہیں۔ مصر کے عبوری وزیر اعظم حاذم الببلاوی نے جنرل سیسی کو صدر بنانے کی کھل کرحمایت کا اعلان کیا ہے۔ جس سے صدارتی انتخاب کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق 2011 کی عرب بہاریہ تحریک کی 25 جنوری کو منائی جانے والی سالگرہ سے پہلے ایسے دھماکے آئندہ دنوں زیادہ خطرناک صورت حال پیدا ہونے کا اشارہ ہیں۔ واضح رہے اخوان المسلمون نے پہلے ہی احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

جبکہ ماہ دسمبر میں عبوری حکومت کی طرف سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد اس کا احتجاج غیر قانونی سمجھا جائے گا۔ قاہرہ میں سکیورٹی کے حوالے سے فورسز کو پچھلے کئی دنوں سے بطور خاص الرٹ رکھا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز پہلا دھماکہ صبح سویرے ساڑھے چھ بجے پولیس ہیڈ کوارٹرز کے سانے کار بم دھماکے صورت سامنے آیا۔ کار بم دھماکہ صبح سویرے ہونے اور پولیس ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگ سے چند گز دور ہونے کی وجہ زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ تاہم اس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 54 زخمی ہو ئے ہیں۔

کار بم دھماکے کے بعد مسلح افراد نے پولیس ہید کوارٹرز بلڈنگ پر فائرنگ کی لیکن سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق نیں کی ہے۔ البتہ وزارت داخلہ کے ترجمان نے ہانی عبداللطیف نے اس امر کی تردید کی ہے کہ سرکاری محفاظوں نے دھماکے کے بعد خودکش بمباروں پر فائرنگ کی تھی۔

پولیس ہیڈ کوارٹرز کے قریب واقع نیشنل لائبریری کو بھی کار بم دھماکے سے جزوی نقصان پہنچا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان لائبریری کے پانی پائپ پھٹنے سے ہوا جس سے تاریخی مخطوطوں والے شعبے میں موجود مخطوطے متاثر ہوئے ہیں۔

کار بم دھماکے سے پولیس ہیڈ کوارٹر کا گیٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جبکہ عمارت کے سامنے والے حصے کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ کثیرالمنزلہ پولیس ہیڈ کوارٹرز کی کئی منزلوں کو نسبتا زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ان میں موجود ریکارڈ کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔

دوسرا دھماکہ تقریبا تین گھنٹے بعد میٹرو سٹیشن کے قریب ہوا۔ خوش قسمتی سے اس دھماکے سے جانی نقصان کی ابھی تک تصدیق نہین ہوئی ہے البتہ متعدد لوگ زخمی ہو ئے ہیں۔ تیسرا دھماکہ گیزا کے قریب طالبیہ میں ہوا ۔ تاہم اس دھماکے سے فوری نقصان کی اطلاع نہیں۔