.

اقوام متحدہ کی ایجنسی شام میں امداد کی تقسیم میں ناکام

اسد حکومت کی یقین دہانی کے باوجود سکیورٹی فورسز نے رکاوٹیں حائل کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت امدادی ایجنسی شام کے دارالحکومت دمشق کے محاصرے کا شکار علاقے یرموک میں امدادی سامان پہنچانے میں ناکام رہی ہے حالانکہ صدر بشارالاسد کی حکومت نے امداد پہنچانے کیے لیے سہولت دینے کی یقینی دہانی کرائی تھی لیکن سکیورٹی فورسز نے رکاوٹیں حائل کردی ہیں۔

بعض امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے اور انھوں نے امدادی سامان کو سکیورٹی چیک پوائنٹس سے آگے جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

اقوام متحدہ کے تحت ریلیف اور ورکس ایجنسی (انروا) نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کو شامی حکام نے 18 جنوری کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ یرموک میں خوراک اور دوسرا امدادی سامان پہنچا سکتی ہے۔دمشق کے اس علاقے میں پہلے تو فلسطینی مہاجرین کا کیمپ قائم تھا لیکن اب وہاں غربت کا شکار شامی بھی رہ رہے ہیں۔

شامی صدر کے تحت فورسز نے گذشتہ کئی ماہ سے یرموک کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ اس کے مکینوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں جس کے نتیجے میں وہاں بھوک اور ننگ نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور اس علاقے میں کم خوراکی کی وجہ سے حالیہ دنوں میں پندرہ افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔

انروا نے شامی حکومت کی جانب سے یرموک تک امداد پہنچانے کی اجازت دینے کی یقین دہانے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی ٹیموں کو چیک پوائںٹس سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ابھی فوج اور باغیوں کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں۔ان کا کوئی نتیجہ سامنے آنے کے بعد ہی امدادی سامان لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

انروا کے مطابق حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد سے خوراک کے صرف 138 پارسلز بھیجے جاسکے ہیں۔ان سے صرف آٹھ افراد کو دس روز کے لیے کھانا مہیا ہوسکتا ہے جبکہ یرموک میں اس وقت اٹھارہ ہزار افراد مقیم ہیں اور انھیں خوراک ،ادویہ اور دوسرے امدادی سامان فوری طور پر اشد ضرورت ہے۔

شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومت بھوک کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور وہ محصور علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے تاکہ ان کے مکینوں کو اپنی حمایت پر مجبور کیا جاسکے جبکہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ امدادی قافلوں پر فائرنگ کی ذمے داری باغیوں پر عاید ہوتی ہے اور وہی امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں پر بھی فائرنگ کررہے ہیں۔

حال ہی میں بھوک کا شکار فلسطینیوں کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آئی ہیں۔انھیں دیکھنے کے بعد دنیا حیرت زدہ رہ گئی ہے کہ کس طرح شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران فلسطینی مہاجرین کو جیتے جی بھوک سے مارا جارہا ہے۔خواتین اور بچے خاص طور پر کم خوراکی کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے گذشتہ کئی ماہ سے یرموک کیمپ کا محاصرہ کررکھا ہے۔اس کیمپ میں خانہ جنگی کے آغاز سے قبل قریباً پینتالیس ہزار افراد رہ رہے تھے لیکن انھیں خوراک اور ادویہ تک رسائی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی کارکنان نے گذشتہ ہفتے یرموک کے مکینوں تک خوراک کے چار سو کارٹن پہنچانے کے لیے فوج سے مذاکرات کیے تھے لیکن وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہے تھے۔ان امدادی کارکنان کے مطابق شامی فوجیوں نے کیمپ کے اندر امدادی سامان لے جانے کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ سامان باغی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔