.

مقبوضہ وادی گولان میں اسرائیل کے نئی فوجی یونٹ تعینات

فوج میں اضافے سے آپریشنل کارروائیوں میں مدد ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے شام کے مقبوضہ علاقے وادی گولان میں نئی فوجی یونٹ کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ صہیونی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "پاچان" نامی فوجی یونٹ کے اہلکاروں کو جلد ہی محاذ پر روانہ کر دیا جائے گا۔

صہیونی فوج کے مطابق وادی گولان میں سرحد پار سے در اندازی کی ممکنہ کارروائیوں کو روکنے اور امن وامان کے قیام کے لیے نئی فوجی یونٹ کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق نئی فوجی یونٹ کی تعیناتی کے بعد علاقے میں صہیونی فوج کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور اسرائیل کو درپیش سیکیورٹی چیلنجزسے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کی تحریک کے دوروان شام اور اسرائیل کی درمیان سرحدی علاقے وادی گولان پر بھی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ ہلکے نوعیت کے ہتھیاروں سے شامی فوجیوں اوراسرائیلی بارڈر پولیس کے درمیان فائرنگ ہوتی رہے لیکن اسرائیل شام کی سرزمین سے اپنی حدود میں "ہاون" راکٹ حملوں کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔

مقبوضہ وادی گولان شام کا ایک پرفضاء مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہ وادی اسرائیل اور شام میں منقسم ہے۔ اسرائیل نے سنہ 1967ء کی چھ روزہ جنگ وادی کے 12 مربع کلومیٹرعلاقے پرقبضہ کرلیا تھا۔ اسرائیل نے وادی گولان کواپنی ریاست کا حصہ قرار دے رکھا ہے تاہم عالمی برادری نے اسرائیل کا قبضہ تسلیم نہیں کیا ہے۔