.

کیا وہ صدر بنے گا، اسے بغاوت کا خوف نہیں؟: محمد مرسی

السیسی کی صدارت اور عوامی ردعمل سے متعلق مرسی کی جیل میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی جیل میں اپنے وکیل کے ساتھ بات چیت کی خفیہ آڈیو ٹیپس سامنے آئی ہیں جن میں معزول صدر نے فیلڈ مارشل بننے والے عبدالفتاح السیسی کے صدر بننے کے امکانات اور ممکنہ مضمرات پر اپنے وکیل سے سوالات کیے ہیں۔

اس خفیہ ٹیپ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مصر کا پہلا منتخب صدر اپنی جماعت کی قیادت کی سمیت ہزروں کارکنوں کی گرفتاری اور اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد سخت مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حتی کہ انہیں اپنی روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات ہیں۔

خفیہ ٹیپ کے ذریعے سامنے آنے والی پہلے جمہوری صدر مرسی نے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب لڑنے کا معاملہ واضح کریں۔

مرسی نے اپنے وکیل محمد سلیم الاوا سے اس بارے میں متعدد کیے گئے سوالات کیے ہیں جن میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا السیسی صدارتی امیداور ہو گا۔ مرسی کا سوال جو واضح طور پر سنا جا سکتا ہے '' کیا واقعی وہ صدر بننا چاہتا ہے؟''

یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ '' صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی صورت میں کیا السیسی فوج کی قیادت سے الگ ہو جائے گا۔'' اس کے جواب میں مرسی کے وکیل نے کہا '' ہاں وہ چھوڑ دے گا، خدا کی مرضی سے۔''

جولائی 2013 میں صدارت سے برطرف کیے گئے مرسی نے السیسی کے برطرف کیے جانے کے امکانات کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا '' کیا السیسی کو کسی بغاوت کا خوف نہیں ہے کیا مصری عوام اس کے خلاف بغاوت کی تیاری نہیں کر رہے ؟''

مرسی کے اس سوال پر ان کے وکیل کا جواب واضح طور پر نفی میں رہا۔ البتہ وکیل نے کہا مرسی کے حامیوں اور مخالفین کو مصر کو بحرانی صوت حال سے نکالنے کیلیے مل بیٹھنا چاہیے۔ وکیل کے مطابق جو چیز منطقی ہے وہ یہی ہے کہ عوام متحد ہو جائیں، بصورت دیگر مصر کے آگے بڑھنے کا کو ئی راستہ نہیں ہے۔''

وکیل محمد سلیم الاوا نے مزید کہا ''مجھے الاخوان یا السیسی کی فکر نہیں مجھے صرف اپنے ملک مصر کی فکر ہے۔'' ٹیپ کے آخری حصے سنسر کیے گئے ہیں میں مرسی نے اپنی مالی تنگی کا ذکر بھی کیا ہے '' میرے اکاونٹ میں کچھ نہیں ہے مجھے زندہ رہنے کیلیے رقم کی ضرورت ہے۔''

واضح رہے محمد مرسی سے جیل میں ان کی جماعت کے لوگوں کو ملنے کی اجازت نہیں جبکہ ان کی حامی جماعت اخوان المسلمون کی ساری قیادت جیلوں میں بند ہے۔ ان حالات میں مرسی کی اہل خانہ بھی ایک آدھ مرتبہ ہی مرسی سے مل سکے ہیں۔ اس لیے وہ ملک کے اندر کی سیاسی پیش رفت پر کسی سے شئیرنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔