.

روسی عوام کیطرف سے السیسی کی کامیابی چاہتا ہوں: پیوٹن

حکمران کون ہو گا، فیصلہ مصری عوام کو کرنا ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے روسی صدر کی جانب سے مصری فوج کے طاقتور سربراہ عبدالفتاح السیسی کے صدر بننے کی حمایت کی خبر لیتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کا صدر کسے ہونا چاہیے اور کسے نہیں '' یہ فیصلہ کرنا مصری عوام کا حق ہے۔''

امریکی نائب ترجمان میری حارف نے مزید کہا '' بلاشبہ ہم کسی صدارتی امیدوار کی تائید نہیں کرتے ہیں اور کھلے دل سے یہ سوچتے ہیں کہ یہ امریکا یا ولادی میر پیوٹن کا حق نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ مصر مں کس کی حکومت ہو گی۔''

امریکا نے مصر اور روس کے درمیان تعلقات کی گرم جوشی کے حوالے سے کہا ہے کہ اس سے امریکا اور مصر کے درمیان تاریخی تعلقات کو نقصان نہیں ہو گا۔

اس سے پہلے مصر کے عبوری وزیر دفاع اور فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی دورہ ماسکو کے موقع پر اپنے صدارتی انتخاب کیلیے پہلی اہم اور غیر ملکی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اگرچہ کہ انہوں نے مصری عوام کے سامنے باضابطہ طور پر اپنے صدارتی امیدوار ہونے کا ابھی تک اعلان نہیں کیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے مصری فوج کے سربراہ کے مصر کا صدر بننے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ عبدالفتاح کے صدر بننے کے بعد روس اور مصر کے دو طرفہ معاہدے مضبوط ہوں گے۔

اس موقع پر پیوٹن نے کہا '' میں جانتا ہوں مسٹر وزیر دفاع آپ مصر کے صدر بننے کا فیصلہ کر چکے ہیں، یہ بہت ذمہ داری والا فیصلہ ہے، میں ذاتی طور پر بھی اور روس کے عوام کی طرف سے بھی آپ کی خوش نصیبی چاہتا ہوں۔ ''

اس اہم پیش رفت کے باوجود ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ السیسی کے حمایت کیلیے روس مصری سیاست میں کس حد تک مداخلت کر سکتا ہے۔ کیونکہ شام کے بشارالاسد کا اہم ترین سرپرست ہونے کی وجہ سے روس کی مداخلت کے پورے خطے میں مزاحمت کا بھی امکان ہو سکتا ہے۔

واضح رہے روس انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے دوران مصر کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم ترین ملک رہ چکا ہے۔ تاہم بعد میں اس کی جگہ امریکا نے لے لی تھی۔ تاہم فوری طور پر یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ اب تقریبا پچاس سال کے وقفے کے بعد فوری طور پر کوئی معاہدہ ممکن ہو گیا ہے کہ ابھی نہیں۔

فیلڈ مارشل السیسی جو ملک میں جمال عبدالناصر کے حوالے سے پہچانے جانے کی خواہش رکھتے ہیں اپنے صدارتی انتخاب سے پہلے عوام کو اسی ہیروشپ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ جو ساٹھ کی دہائی میں تھی۔

روس کے دورے کے دوران عبوری وزیر خارجہ نبیل فہمی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ وہ روس میں اعلی سطح کی ملاقاتوں کے دوران مصر کے عبوری وزیر دفاع فیلڈ مارشل کی معاونت کر رہے ہیں۔ روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان ملاقاتوں اور مذاکرات کا بنیادی نکتہ روسی اسلحے سے متعلق ڈیل کے حوالے سے ہے۔

اس سے پہلے روسی صنعتی ادارے کے سربراہ قاہرہ کے دورے کے موقع پر بھی بتایا تھا کہ روس اور مصر کے درمیان ائیر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کے حوالے ڈیل کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ واضح رہے اس سے پہلے بھی روس اور مصر کے درمیان کچھ معاملات میں پیش رفت ہو چکی ہے۔