.

جنگ زدہ ننھے بچے نے اردنی سرحد عبور کر لی

چار سالہ مروان شام سے اردن آتے ہوئے والدین سے بچھڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں تین برسوں سے جاری خانہ جنگی نے کمسن اور شیر خواروں کو بھی مہاجرت پر مجبور کر رکھا ہے۔ دو روز قبل ایسا ہی کمسن چار سالہ شامی بچہ شام اور اردن کا صحرائی بارڈر عبور کر کے اردن میں داخل ہوا ہے۔

نقل مکانی کرنے والوں کی دیکھ بھال کرنے والے اقوام متحدہ کے امن کارکنوں نے اس چار سالہ بچے مروان کو سرحد عبور کرتے ہوئے دیکھا۔ یہ بچہ کچھ دیر کیلیے اپنے اہل خانہ سرحد عبور کرتے ہوئے بچھڑ گیا تھا۔

والدین سے بچھڑ جانے والے اس ننھے مہاجر کی اقوام متحدہ کے امن ورکرز نے مدد کی اور اسے بحفاظت سرحد عبور کرائی۔

بعد ازاں اقوام متحدہ کی ریفیوجی ایجنسی کے نمائندے انڈریو ہارپر نے اپنی زندگی کے اس منفرد واقعے کو ٹویٹ کر کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ شئیر کیا تھا کہ انہوں ایک انتہائی کمسن مہاجر کو سرحد عبور کرنے میں مدد کی ہے.

واضح رہے اتوار کے روز شامی شہریوں کی بڑی تعداد نے اردن کی سرحد عبور کر کے یہاں پناہ لی ہے۔ اسی دوران جنیوا ٹو کے تحت ہونے والے امن مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔

امریکا، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس وغیرہ نے شام کی بشارالاسد رجیم پر الزام لگایا ہے کہ مذاکرات کی ذمہ دار بشار رجیم ہے ۔