سعودی جنگجو کا "ٹیوٹر" کے ذریعے تکفیری نظریات پھیلانے کا اعتراف

سمبتیک سلیمان السبیعی کو "داعش" نے مال غنیمت سمجھ کر استعمال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب سمیت کئی دوسرے مسلمانوں ملکوں کے جنگجو اور عسکری گروپ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک میں سرگرم عمل ہیں۔ انہی عسکری گروپوں میں شام اورعراق میں سخت گیر اسلامی شریعت کے نفاذ کی علمبردار القاعدہ کی ذیلی تنظیم "داعش" بھی سرگرم ہے۔ یہ تنظیم عرب ممالک سے ہم خیال نوجوانوں کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں بھی شہرت رکھتی ہے۔

السمبتیک سلیمان السبیعی سعودی عرب میں اچھی شہرت کا حامل پچیس سالہ نوجوان ہے۔ حال ہی میں وہ شام کے محاذ "جنگ" سے واپس لوٹا اور خود کو سعودی حکام کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں سعودی حکام نے اسے رہا کر دیا۔ چند روز پیشتر سمبتیک نے سعودی "ٹیلی ویژن1" کو شام کے محاذ جنگ کے بارے میں اپنا تفصیلی انٹرویو دیا۔

گفتگو کے دوران سمبتیک سلیمان نے بتایا کہ اس کا ایک بھائی عبدالعزیز شام کے محاذ جنگ میں مارا گیا جس کا انتقام لینے کے لیے اسے بھی شام جانے کی سوجھی۔ اس کا اپنا پاسپورٹ مقتول بھائی لے گیا تھا۔ اس لیے سمبتیک کے پاس بیرون ملک سفر کے لیے کوئی قانونی راستہ نہیں تھا۔ اس نے اپنے ایک کزن کا پاسپورٹ لیا اور اس جعلی پاسپورٹ پر وہ ترکی کے راستے شام پہنچا۔ جنگ کے دوران وہ دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے ساتھ وابستہ رہا۔

سمبتیک سلیمان السبیعی نے بتایا چونکہ وہ اپنے ملک میں اچھی شہرت رکھنے والا نوجوان تھا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر اس کے ان گنت فالورز تھے۔ ان میں کئی اہم اور سرکردہ حکومتی شخصیات، علماء اور مبلغین بھی شامل تھے۔ داعش کے جنگجوؤں نے جب اس کا "ٹیوٹر" اکاؤنٹ دیکھا تو انہوں نے مجھے اور میرا ٹیوٹر اکاؤنٹ اپنے پیغامات کی ترسیل کے لیے غنیمت سمجھا۔ داعش کے جنگجو میرے ٹیوٹر اکاؤنٹ کو سعودی حکومت اور بعض علما کی تکفیر کا ذریعہ بنایا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب میں اس کے خلاف ایک نئی فضاء بننا شروع ہو گئی۔

سعودی نوجوان نے کہا کہ اگر میرا بھائی عبدالعزیز شام میں نہ مارا گیا ہوتا تو میں کبھی اس محاذ پر نہ جاتا۔ شام کے سفر میں غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں بتایا کہ اس کا بھائی عبدالعزیز بھی جعلی پاسپورٹ پر تُرکی کے راستے شام پہنچا تھا۔ اس سے قبل بھی اس کے بھائی کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوشش پر چھ ماہ قید بھی کاٹنا پڑی تھی اور اس کے بیرون ملک سفر پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔

سمبتیک کا کہنا تھا کہ شام میں رہتے ہوئے داعش کے جنگجوؤں نے اس کے "ٹیوٹر" اکاؤنٹ کو نہ صرف اپنے تکفیری نظریات کے فروغ کے لیے بھرپور استعمال کیا بلکہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کے شہریوں کو'جہاد' کی ترغیب دلانے میں بھی خوب استعمال کیا۔

سعودی نوجوان نے بتایا کہ ایک ماہ قبل وطن واپسی پر اس نے خود کو سعودی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ کچھ ایام کی پوچھ گچھ کے بعد اسے رہا کیا گیا لیکن جب داعش کے جنجگوؤں کو میرے تبدیل ہوتے خیالات کا علم ہوا تو انہوں نے"ٹیوٹر" کے ذریعے مجھے انجام سے دوچار کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں