.

"شامی اپوزیشن کیلے عرب لیگ کی رکنیت ابھی نہیں"

شام کی اپوزیشن کو ابھی سیاسی ادارے بنانا ہوں گے: نبیل العربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ میں شام سے خالی کرائی گئی نشست سنبھالنے کیلیے اس وقت تک انتطار کرنا پڑے گا جب تک شامی اپوزیشن اپنے سیاسی فورمز اور ادارے مکمل نہیں کرتی۔ یہ بات عرب ممالک کی سب سے بڑی تنظیم عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری نبیل العربی نے کہی ہے۔ وہ عرب وزارتی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔

واضح رہے عرب لیگ نے 2012 میں اپنی دوحا کانفرنس کے دوران یہ فیصلہ کیا تھا کہ شام کی نشست بشارالاسد رجیم کے بجائے شامی اپوزیشن کے پاس رہے گی لیکن عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری کے مطابق شامی اپوزیشن نے ابھی تک اپنے کو انتظامی اعتبار سے منظم نہیں کیا ہے۔

اس لیے عرب لیگ کی رکن بننے اور شامی عوام کی نمائندہ بننے کیلیے شامی اپوزیشن اتحاد کو ابھی مزید پیش رفت کرنا ہو گی۔ تاہم عرب وزارتی کونسل نے 25 مارچ کو کویت میں اپنے اگلے ہونے والے اجلاس سے خطاب کی دعوت دی ہے۔

عرب لیگ نے شام کی بشار الاسد رجیم ک کو عرب لیگ کی رکنیت سے 2011 میں ماہ نومبر میں اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب شامی عوام کے خلاف سرکاری فوج کا استعمال بہت بڑھ گیا تھا۔

شامی متحدہ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ شامی اپوزیشن عرب لیگ میں شامی عوامی کی نمائدگی کا حق رکھتی ہے، البتہ یہ درست ہے کہ شامی اپوزیشن اتحاد ابھی اپنے آپ کو ایک سیاسی اتحاد کی صورت حقیقی نمائندہ کے طور آگے لانے کیلیے کوشاں ہے۔