داعش اور اسدی فوج کے درمیان جیش الحر کے خلاف گٹھ جوڑ

سرکاری فوج کی 48 قیدیوں کی بازیابی اور باغی کمانڈر کی گرفتاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری بغاوت کی تحریک میں اسدی فوج کے وفاداروں میں نہ صرف شیعہ عسکری گروپ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں بلکہ القاعدہ کی ذیلی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] بھی اس "کارخیر" میں پیش پیش ہے۔

شام کے شمالی وسطی علاقے اور دریائے فرات کے شمالی کنارے پرواقع "الرقہ" شہر اس وقت "داعش" کے جنگجوؤں کے قبضے میں ہے جہاں تنظیم نے اپنی مرضی کی شریعت بھی نافذ کر رکھی ہے۔ جب سے یہاں پر داعش نے اپنا قبضہ مضبوط بنایا تب سے اس تنظیم اور بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان دو طرفہ تعاون کے کئی واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ داعش کی جانب سے الرقہ میں سرکاری فوج کو داخلے کی اجازت دی جاتی ہے، جو شہر میں اپنی مرضی کے مطابق چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں کرتی ہے۔ داعش اور اسدی فوج کے درمیان قیدیوں کے تبادلے بھی ہو رہے ہیں۔ معاملہ صرف قیدیوں کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ داعش اپنے ہاں حراست میں رکھے گئے اپنے مخالف جنگجو گروپوں بالخصوص "جیش الحُر" کی حمایت یافتہ تنظیموں کے ارکان کو سرکاری فوج کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔

داعش اور سرکاری فوج کے درمیان باہمی تعاون کا ایک تازہ واقعہ چند روز قبل سامنے آیا۔ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر بھی اس کے مناظر کئی گھنٹے تکرار کے ساتھ دکھائے گئے۔ یہ واقعہ ان 48 قیدیوں کی رہائی کا ہے، جنہیں شامی فوج کے بہ قول پہلے جیش الحر کے حامی "اویس قرنی بریگیڈ" کے جنگجوؤں نے حراست میں لے رکھا تھا۔ بعد ازاں داعش نے کارروائی کر کے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ الرقہ میں سرکاری فوج اور داعش کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا یہ معاہدہ صرف چند فوجیوں کی رہائی نہیں بلکہ سرکاری فوج جیش الحرکے وفادار "اویس قرنی" بریگیڈ کے قائد الحاج عبدالفتاح ابو محمد کو گرفتار کرنا چاہتی تھی۔

گوکہ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر جو مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ان میں تو داعش کے ساتھ کسی معاہدے کا ذکر نہیں بلکہ تکرار کے ساتھ جو بات کہی گئی وہ صرف یہ تھی کہ "شام کی بہادر افواج نے عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے ان کے قبضے سے نہ صرف اڑتالیس قیدیوں کو چھڑا لیا بلکہ اویس قرنی اور خزیفہ بن یمان بریگیڈ کے کئی عناصر کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قیدیوں کی بازیابی کا یہ آپریشن الرقہ میں "الطبقہ" کے مقام پر کیا گیا، جہاں سے کامیابی کے ساتھ سرکاری فوج نے 48 قیدیوں کو رہا کرانے کے ساتھ اویس قرنی بریگیڈ کے کمانڈر ابو محمد کوبھی حراست میں لے لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگرذرائع سے جوخبریں اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں اسدی فوج کی گاڑیوں کے ہمراہ میڈیا کی گاڑیاں بھی ساتھ ساتھ کوریج کرتے ہوئے الرقہ میں داخل ہو رہی ہیں۔ ان تمام مناظر سے یہ امر واضح ہو رہا ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ داعش اور سرکاری فوج کے درمیان ایک ڈیل تو ہے ہی مگر داعش کے جنگجو اپنے مخالف دوسرے جنگجوؤں کے زیرحراست کارکنوں کو بھی سرکاری فوج کے حوالے کر رہے ہیں۔

اگر داعش کا تعاون حاصل نہ ہو تو شامی فوج کسی طرح ذرائع ابلاغ کی گاڑیوں کے ہمراہ نہایت اطمینان کے ساتھ الرقہ میں داخل ہو اور کئی گھنٹے نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ کارروائی بھی کرے اور اس کی میڈیا کوریج بھی ہوتی رہے۔ اس کارروائی سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ داعش اور سرکاری فوج "جیش الحر" کےخلاف ملی بھگت کے تحت کام کر رہے ہیں۔ سرکاری فوج کو مطلوب جیش الحرکے حامیوں کی گرفتاری اور ان کی اسدی فوج کو حوالگی میں ملکی بھگت کے تحت ہو رہی ہے۔ بشارالاسد کی فوج اس کے بدلے میں داعش کے زیرحراست جنگجو رہا کر رہی ہے۔

الرقہ کے صحافی ابراہیم الرقاوی کا کہناہے کہ جن علاقوں میں "داعش" نے اپنا تسلط جما رکھا ہے وہاں پر سرکاری فوج کو کارروائی کی کھلی اجازت حاصل ہے۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ داعش جیش الحر کے خلاف کارروائیوں میں سرکاری فوج کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے۔ اس کا بشارالاسد کےخلاف جنگ کا دعویٰ قطعی بے بنیاد ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم الرقاوی نے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ اور اویس قرنی بریگیڈ کے سربراہ کی گرفتاری کوئی ڈرامائی "سین" نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے کیونکہ جب سے داعش نے الرقہ شہر پر قبضہ کیا ہے اس وقت سے ہی تنظیم کو خذیفہ بن یمان بریگیڈ" اور "اویس قرنی" بریگیڈ کی شکل میں دو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ داعش نے سرکاری فوج کی مدد سے ان دونوں تنظیموں کو کچلنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ان کے درجنوں جنگجو قتل کر دیے گئے اور سیکڑوں گرفتار اور لاپتہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق "یو ٹیوب" پر نشر ایک ویڈیو میں قیدیوں کے تبادلے کے لیے سرکاری فوج کی گاڑیوں کو الرقہ میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے۔ راستے میں داعش کا ایک جنگجو سرکاری فوج کو "راستہ کلیئر" ہونے کا یقین دلاتا ہے اور انہیں کہہ رہا ہے کہ راستہ صاف ہے اور انہیں اپنی منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روکے گا۔ سرکاری فوج نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ میڈیا کی گاڑیوں کے ہمراہ الرقہ میں "الطبقہ" میں داخل ہو جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں