شام: حضرت اویس قرنی کا مزار، مسجد دھماکے سے تباہ

القاعدہ نواز شدت پسند تنظیم داعش نے ذمہ دار قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

القاعدہ نواز شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام [ داعش] نے شامی شہر الرقہ میں حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا مزار اور اس سے ملحقہ مسجد عمار بن یاسر کو دھماکے سے اڑا دیا۔

خیال رہے کہ حضرت اویس قرنی کا مزار اور اس سے متصل جامع مسجد عمار بن یاسر لبنان، عراق اور ایران سے آنے والے شیعہ مسلک زائرین کی ایک اہم زیارت گاہ سمجھے جاتے ہیں۔ جب سے الرقہ شہر پر شدت پسند تنظیم "داعش" نے قبضہ جمایا ہے تب سے وہاں پر تنظیم نے اپنی مرضی کی حکومت قائم کر رکھی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر تباہ شدہ مزار اور متاثرہ جامع مسجد عمار بن یاسر کو دکھایا گیا ہے، جس کے بیرونی حصے، دیواریں ملبے کا ڈھیر دکھائی دی ہیں۔ جامع مسجد کا سفید اور فیروزی رنگوں سے مزین مینار بھی زمین بوس ہو چکے ہیں۔ "ٹیوٹر" پر تین تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ ایک میں مسجد عمار بن یاسر کا بیرونی حصہ دکھایا گیا ہے۔ دوسری تصویر میں مزار اور مسجد کے تباہ ہونے والے بیرونی حصوں کا سڑک پر پڑا ملبہ اور تیسری میں مزار کا اندرونی حصہ جو بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے دکھایا گیا ہے۔

درایں اثناء شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا ہے بدھ کے روز القاعدہ کی منحرف تنظیم داعش نے مسجد عمار بن یاسر اور حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے مزار کو اڑانے کے لیے دو الگ الگ بم دھماکے کیے۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف بر سر جنگ "داعش" جیسے شدت پسند گروپوں کے خیال میں اہل تشیع "کافر" ہیں اور مزارات ان کے بت ہیں جن کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہل تشیع کے مذہبی مراکز کو اسلام کی خدمت سمجھ کر تباہ کر رہے ہیں۔

شام کے مختلف شہروں میں بزرگ شخصیات کے مزارات کو دھماکوں سے اڑانے کے بعد ترکی میں بھی ایسے واقعات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ شامی شہر الرقہ ہی میں دریائے فرات کے دوسرے کنارے پر خلافت عثمانیہ کے ترک فرمانروا سلیمان شاہ کا مزار بھی خطرے میں ہے تاہم اس پر ترکی نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔

گوکہ شہر کا یہ علاقہ فی الحال شام کے کنٹرول میں ہے لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ سنہ 1921ء میں فرانس کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت یہ علاقہ ترکی کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ ترک خلیفہ سلیمان شاہ کے مزار پر کسی قسم کا حملہ ترکی کی سر زمین حملہ تصور کیا جائے گا اور دوسرے کسی بھی فریق کو اس مزار پر حملے کاخمیازہ بھگتنا ہو گا۔

ترک صدر عبداللہ گل کا کہنا ہے کہ انقرہ ترک خلیفہ کے مزار کی اسی طرح حفاظت کرے گا جس طرح وہ اپنے وطن کے کسی بھی شہر کی حفاظت کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں