.

قاہرہ دھماکے، اعلی پولیس افسر سمیت دو ہلاک

جامعہ الازہر کے سامنے ایک اعلی پولیس افسر بھی زخمی ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس کا ایک سینئیر افسر اس وقت ہلاک ہو گیا جب پولیس کی بھاری نفری عالم گیر شہرت کی حامل مصری درسگاہ جامعہ الازہر کے سامنے تعینات تھی۔ تاکہ جامعہ کے طلبہ کو معزول کیے گئے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی بحالی کے لیے اچانک احتجاج سے روکا جا سکے۔ پولیس افسر بریگیڈئیر جنرل طارق المرجاوی کے علاوہ ایک اور شخص بھی جامعہ کے سامنے اس بم دھماکے کی نذر ہوا ہے۔ جبکہ سینئیر پولیس افسر سمیت متعدد راہ گیر زخمی بھی ہو گئے ہیں.

جامعہ الازہر قاہرہ کی اہم ترین یونیورسٹی ہونے کے ناطے پچھلے سال جولائی سے اب تک مرسی کے حامی طلبہ کے احتجاج کا مرکز رہی ہے اور اب تک متعدد طلبہ بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جوں جوں مصر میں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے بطور صدر منتخب ہونے کا دن قریب آرہا ہے الازہر کے طلبہ کی طرف سے احتجاج میں شدت کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکہ ایک پولیس افسروں کی گاڑی کے قریب ہوا۔ جس سے بریگیڈیئر جنرل طارق ہلاک اور میجر جنرل عبدالروف الصرافی زخمی ہوگئے۔ میجر جنرل صرافی صوبہ گزا میں پولیس کے نائب سربراہ ہیں۔ واضح رہے جامعہ الازہر کا سب سے بڑا کیمپس گزا میں ہی واقع ہے۔ اس بم دھماکے سے قاہرہ میں تشدد کا ایک نیا رخ سامنے آ گیا ہے۔

دوسری جانب عبوری حکومت نے پچھلے ایک ہفتے کے دوران 500 کی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں ان ہلاک ہونے والوں میں عام لوگوں کے علاوہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے بم دھماکے ایک سے زائد تھے جو سیکنڈز کے وقفے سے پھٹ گئے۔ سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں استعمال ہونے والے بم گھریلو ساختہ تھے۔

سکیورٹی سے متعلق ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ''پچھلے 9 ماہ سے جاری تشدد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔'' عبوری حکومت نے ماہ مئی کی 26 تاریخ کو صدارتی انتخاب کرانے کا اعلان کرا رکھا ہے۔ اس انتخاب میں فیلڈ مارشل السیسی کے جیتنے کے قوی امکانات ہیں۔