.

مصر:انسدادِ دہشت گردی کے لیے سخت قوانین کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی کابینہ نے قاہرہ میں حالیہ بم دھماکوں کے بعد دہشت گردوں کو سخت سزائیں دلوانے کے لیے بعض قانونی ترامیم متعارف کرائی ہیں اور دہشت گردی کے زمرے میں آنے والے جرائم میں بھی وسعت دے دی ہے۔

قاہرہ میں جمعرات کی رات گئے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''کابینہ نے ضابطہ فوجداری اور تعزیرات میں ترامیم کی منظوری دی ہے جن کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں پر سزاؤں کو وسعت دے دی گئی ہے اور دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے مزید ٹرائبیونل قائم کیے جائیں گے''۔ ان مجوزہ ترامیم کو منظوری کے لیے عبوری صدر عدلی منصور کے پاس بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد یہ قانون بن جائیں گی۔

مصر کے وزیر انصاف نیّر عبدالمنعم عثمان نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ''ترامیم سے دہشت گردی کی تعریف وسیع تر ہوگئی ہے اور ان میں گذشتہ تین سال کے دوران رونما ہونے والے واقعات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں بعض ایسے گروپ موجود ہیں جو ملک کی سکیورٹی کے لیے ایک بوجھ بن چکے ہیں۔ان کا واضح اشارہ سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کی جانب تھا جس کے خلاف عبوری حکومت گذشتہ سال جولائی کے بعد سے کریک ڈاؤن کررہی ہے۔

قاہرہ کی پولیس اکیڈیمی میں آئینی قانون کے پروفیسر طارق خضر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں نافذ موجودہ قوانین میں دہشت گردی کے لیے مالی امداد سے متعلق ایشوز سے نمٹنے کا کوئی طریق کار نہیں ہے۔اس لیے اب ترمیم شدہ قانون میں اس کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مصری حکومت نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظر سخت قوانین کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔بدھ کو جامعہ قاہرہ کے نزدیک تین بم دھماکے ہوئے تھے جن کے نتیجے میں ایک پولیس جنرل ہلاک اور پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

مصری حکومت کے بہ قول ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے جنگجوؤں کے حملوں میں کم سے کم پانچ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر پولیس اہلکار اور فوجی ہیں۔جنگجوؤں کے حملوں میں زیادہ تر ہلاکتیں جزیرہ نما سیناء کے شمالی علاقے میں ہوئی ہیں جہاں 3جولائی 2013ء کو مسلح افواج کے ہاتھوں مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے بد امنی کا دور دورہ ہے اور جنگجو گروپ سرکاری سکیورٹی فورسز،عام شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں پر حملے کررہے ہیں۔

القاعدہ سے متاثر انصار بیت المقدس نامی جنگجو تنظیم نے ان میں سے بیشتر بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔اسی تنظیم نے دسمبر میں مصر کے شہر منصورہ میں پولیس کے ہیڈکوارٹرز پر بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور مصری حکومت نے اسی حملے کو جواز بنا کر ملک کی سب سے بڑی مذہبی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنینشل کے مطابق اخوان اور دیگر حکومت مخالف جماعتوں کے کارکنان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں چودہ سو سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔