مصر میں السیسی کیخلاف ٹوئٹر پر بدترین مخالفانہ مہم

''دلال'' کا لقب ملنے پر، حامی اینکرز کا ٹوئٹر پر پابندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مصر میں ٹی وی ٹاک شو کے ایک میزبان نے ٹوئٹر پر فوج کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے خلاف بدترین مہم کے بعد کہا ہے کہ عبوری مصری حکومت کو ٹوئٹر پر پابندی لگانا پڑے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اب تک لاکھوں افراد مصر میں عبدالفتاح السیسی کے بارے میں اپنی نفرت کا اظہار کر چکے ہیں۔ اخوان المسلمون کے حامیوں کی اس مخالفانہ مہم میں السیسی کے خلاف 'دلال' اور ملتے جلتے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں۔ ٹوئٹر پر پابندی کا یہ آئیڈیا پیش کرتے ہوئے ترک وزیر اعظم طیب ایردوآن کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

معروف ٹی وی اینکر خیری رمضان کے مطابق معزول صدر مرسی کی فوجی سربراہ کے ہاتھوں برطرفی کے بعد بھی ایسی ہی مخالفانہ مہم چل چکی ہے، تاہم خیری رمضان کے مطابق اخوان کے ''دہشت گرد'' زیادہ مہارت سے یہ مہم چلا رہے ہیں۔

واضح رہے مصری فوج کی سربراہی اور وزارت دفاع کے منصب سے پچھلے ہفتے مستعفی ہونے والے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ایک مضبوط فوجی سربراہ کے طور پر سامنے آئے ہیں، جنہوں نے عبوری حکومت قائم کی اور اخوان کے احتجاج کو پوری قوت سے کچلا اور اس حوالے کسی غیر ملکی دباو کی پروا نہیں کی۔

خیری رمضان نے اپنے ٹاک شو میں کھلے الفاظ میں کہا ''میں سیسی کو منتخب کروں گا'' اس کے ان کلمات کی ادائیگی کے ساتھ ہی ٹوئٹر کی چڑیا''پھڑ پھڑانے'' لگی ۔ خیری کی طرف سے استعمال کیے گئے ہیش ٹیگ کے جواب 'سیسی کو صدر بنائیں' کے جواب میں سابق وزیر دفاع کو سوشل میڈیا پر 'دلال' جیسے القابات سے نوازا جانے لگا۔

اس کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ متحرک ہو گئے اور فیلڈ مارشل کیلیے 'دلال، دلال' کے القابات دینا شروع کر دیے۔ ایک ایسے امیدوار جس کی بطور صدارتی امیدوار جیت دور نہیں ہے کے بارے میں اس قدر نازیبا الفاظ کا استعمال افسوسناک سمجھا جا سکتا ہے۔ محض چند گھنٹوں کے دوران لاکھوں افراد نے السیسی کے خلاف اس نامناسب لفظ کو اپنے ٹوئٹر پر استعمال اور شئیر کیا ہے۔

اب تک اس حوالے سے 129 ملین تاثرات سامنے آ چکے ہیں۔ اس بارے میں ایک سائٹ یوزر کا کہنا ہے کہ وہ اس ہفتے تک ایک ارب کی تعداد کو چھو سکتے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اس وسیع پیمانے پر توہین آمیز انداز کی مہم کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بننے والی''کی ہول'' نامی ایک ویب سائٹ تک رسائی ممکن نہیں رہی ہے۔ اسے مصری حکام نے کردار کشی پر مبنی مواد کی وجہ سے بلاک کر دیا ہے۔

خیری رمضان کے مطابق دونوں اہم صدارتی امیدواروں السیسی اور حمدین صباحی کو اس مخالفانہ مہم کا توڑ کرنے کیلیے ماہرین کی خدمات لینا پڑیں گی۔ انہوں نے اس موقع پر ٹوئٹر پر پابندی کا آئیڈیا بھی پیش کیا ، تاہم انہیں خدشہ ہے کہ اس سے نوجوانوں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ اہم ترین صدارتی امیدوار کے بارے میں ایسی موثر مہم کے حوالے سے مصری وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اسے مانیٹر کر رہی ہے۔

ایک اور ٹی وی اینکر عامر ادیب نے بھی سوشل میڈیا پر جاری اس مہم کو اخلاق کی کمی بتایا ہے۔ عامر ادیب کا کہنا ہے حکام نے یہ مہم نہ روکی تو اس میں مزید پھیلاو آئے گا۔ عامر ادیب نے اس موقع پر السیسی کو 'دلال'کا نام دینے والی مہم کو ترکی میں ٹوئٹر پر ایردوآن کو 'چور' کہنے والی مہم قرار دیتے ہوئے بعد ٹوئٹر پر لگنے والی پابندی کا بھی حوالہ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں