.

''اسرائیل امن مذاکرات چاہتا ہے،مگر کسی قیمت پر نہیں''

فلسطینی ریاست کو یک طرفہ منوایا گیا تو جوابی اقدامات کریں گے:نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ''اسرائیل امریکا کی ثالثی میں فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کو جاری تو رکھنا چاہتا ہے لیکن کسی قیمت پر نہیں''۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل پر صہیونی وزیراعظم کا یہ پہلا ردعمل ہے۔انھوں نے اتوار کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر فلسطینیوں نے اپنی ریاست کو منوانے کے لیے یک طرفہ اقدامات کیے تو اسرائیل بھی ردعمل میں اپنے طور پر اقدامات کرے گا۔

ان کے الفاظ میں:''اگر وہ (فلسطینی) کوئی بھی یک طرفہ اقدام کرتے ہیں تو ہم بھی اپنے طور پر یک طرفہ اقدامات کے ذریعے ان کا جواب دیں گے''۔

درایں اثناء امریکی سفیر مارٹن انڈائیک بھی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کو بچانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں۔وہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی جانب سے امن مذاکرات میں ثالثی کے کردار پر نظرثانی کے اعلان کے بعد سفارت کاری کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔

مارٹن انڈائیک نے فلسطین کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات اور ان کی اسرائیلی ہم منصب زیپی لیونی سے جمعہ کو ملاقات کی تھی اور وہ اتوار کو ان دونوں کے ساتھ ایک اور ملاقات کرنے والے تھے۔زیپی لیونی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست ملاقات ہونی چاہیے۔

انھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ''امریکیوں کو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات میں تو شامل رہنا چاہیے لیکن ان مذاکرات اور دوطرفہ بات چیت میں مدد گار کے طور پر یہ کردار ادا کرنا چاہیے اور ان کا متبادل نہیں ہونا چاہیے''۔

اسرائیلی مذاکرات کار نے برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کی رہائی سے متعلق ایک نیا موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں فلسطینیوں کے ایک مطالبے کے پیش نظر رہا نہیں کیا گیا ہے کیونکہ فلسطینی عرب اسرائیلیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔زیپی لیونی نے کہا کہ اسرائیل امن کوششوں کو جاری رکھے گا کیونکہ موجودہ صورت حال کو ہم زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے پہلے یہ کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی مذاکرات کو 29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھتی ہے تو پھر پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق چوتھے اور آخری مرحلے میں چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جاسکتا ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے امن مذاکرات کو بحال رکھنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز کو بلیک میل قراردے کر مسترد کردیا تھا۔

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ گذشتہ سال جولائی میں مذاکرات کے آغاز کے وقت طویل عرصے سے جیلوں میں بند ایک سو چار قیدیوں کی رہائی سے اتفاق کیا تھا لیکن ان میں سے اٹھہتر قیدیوں کو رہا کیا ہے اور باقی چھبیس قیدیوں کو طے شدہ تاریخ 29 مارچ کو رہا نہیں کیا تھا جس کے ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی نے مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کردیا تھا اور اقوام متحدہ کے پندرہ اداروں اور کنونشنوں میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا۔