.

عراقی فورسز کے حملے میں داعش کے 25 جنگجو ہلاک

عراق کے شمالی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں 16 افراد کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوجیوں نے دارالحکومت بغداد کے نواح میں منگل کو دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے ایک اجتماع پر چھاپہ مار حملے میں پچیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

دارالحکومت کی سکیورٹی کے ترجمان بریگیڈئیڑ جنرل سعد معان نے کہا ہے کہ حملے میں کام آنے والے جنگجو داعش کا حصہ تھے اور وہ ایک فوجی اڈے پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔اسی اڈے پر گذشتہ ہفتے بھی انھوں نے حملے کی کوشش کی تھی۔

لیکن فوج کی داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں اس کامیابی کے باوجود تجزیہ کار اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ بغداد تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں اور 30 اپریل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے پُرامن انعقاد کی راہ میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

منگل کو عراق میں تشدد کے دوسرے واقعات میں سولہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں سے ایک ہی خاندان کے چھے افراد کو شمالی شہر موصل کے نواح میں ان کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

ایک اور شمالی شہر طوزخرماتو میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے لدی کار ایک چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑا دی جس کے نتیجے میں چار پولیس اہل کار ہلاک ہوگئے۔صوبہ صلاح الدین میں واقع شہروں بیجی اور تکریت میں بھی حملے کیے گئے ہیں۔.

واضح رہے کہ القاعدہ سے وابستہ دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے جنگجوؤں اور مقامی سنی جنگجوؤں نے دسمبر کے آخر میں مغربی صوبہ الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی ،فلوجہ اور بعض دوسرے قصبوں وشہروں میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔عراقی فوج مقامی قبائل کی مدد سے ان شہروں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کررہی ہے لیکن تین ماہ سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود عراقی فورسز داعش سے تمام شہروں کا کنٹرول واپس نہیں لے سکی ہیں۔