شامی فوج کے شہریوں پر تشدد کی تصاویر''قابل اعتبار'' قرار

شامیوں کو بھوک یا گلا گھونٹ کر مارنے کی ہولناک تصاویر منظرعام پرآگئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی فوج کے شہریوں پر وحشیانہ تشدد سے متعلق منظرعام پر آنے والی ہزاروں تصاویر کو قابل اعتبار قراردیا ہے۔

فرانس کی دعوت پر سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک کے نمائندوں کا منگل کو غیر رسمی اجلاس ہوا ہے اور شرکاء نے شامی فورسز کے شہریوں پر تشدد سے متعلق قریباً پچپن ہزار تصاویر کا جائزہ لیا ہے۔ان تصاویر کو مبینہ طور پر شام کے ایک سابق فوجی عہدے دار نے بیرون ملک اسمگل کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل مشن کی جانب سے اجلاس میں پیش کی گئی ان تصاویر کو قابل اعتبار قراردیا گیا ہے۔ان میں زیادہ تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شامیوں کی تصاویر ہیں۔انھیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا یا پھر طویل عرصے تک بھوکا رکھا گیا جس کے نتیجے میں وہ موت کے منہ میں چلے گئے۔

فرانسیسی سفیر جیرارڈ آروڈ نے بند کمرے کے اجلاس کے بعد نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ شام کے خلاف قراردداد پیش کرنے کے لیے ان ہولناک تصاویر کو ملاحظہ کیا جانا ضروری تھا۔مجوزہ قرارداد کے تحت شام میں جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے مرتکب عہدے داروں اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے یہ معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کو بھیجا جائَے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد کونسل کے ارکان ہکا بکا رہ گئے تھے''۔اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر سمنتھا پاور نے بھی تشدد زدہ لاشوں کی تصاویر کو ہولناک قراردیا ہے اور کہا کہ ''اسد رجیم نے بڑے منظم انداز میں وسیع اور صنعتی پیمانے پر لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ان خوف ناک جرائم کے مرتکبین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور عالمی برداری کو اس ہولناک صورت حال کے تناظر میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا''۔

شامی فوج کے ایک سابق فوٹو گرافر نے 2011ء اور 2013ء کے درمیانی عرصہ میں ان خوفناک تصاویر کو شام سے باہر اسمگل کیا تھا۔اس سابق شامی فوجی کی ''سیزر'' کے کوڈ نام سے شناخت کی گئی ہے۔تفتش کاروں کی ایک ٹیم نےتیرہ سو افراد کی قریباً پانچ ہزار پانچ سو تصاویر کا جائزہ لیا ہے۔

ایک فورینزک پتھالوجسٹ اسٹورٹ ہملٹن کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو ڈیجیٹل لحاظ سے تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔انھوں نے ان تصاویر کے جائزے کے بعد بتایا ہے کہ ایک آٹو ٹائمنگ بیلٹ کے ذریعے ان میں سے بہت سوں کا گلا گھونٹا گیا تھا۔

فرانسیسی سفیر نے صحافیوں کو بتایا کہ شامی حزب اختلاف کی فورسز نے بھی انسانیت مخالف جرائم کا ارتکاب کیا ہے لیکن ریٹائرڈ فوجی نے ان سے متعلق کوئی ریکارڈ جمع نہیں کیا تھا۔البتہ شامی فوج کی سفاکانہ کارروائیوں سے متعلق تصاویر ایک ٹھوس ثبوت ہیں اور وہ خود بھی ایک گواہ کے طور پر کام آسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں