.

حلب پر فضائی حملوں میں 90 شامی ہلاک

بشارالاسد کی وفادار فوج کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بیرل بموں سے حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے فضائی حملوں میں نوے سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں سے انتیس افراد اس شہر کے صرف ایک علاقے میں بمباری میں مارے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ حلب کے جنوبی علاقے فردوس میں اتوار کو بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت انتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے شہر کے ایک اور علاقے بائدین میں بیرل بم برسائے ہیں۔ان کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایک اور گاؤں جبورین پر بیرل بم کے حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔

درایں اثناء شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے صالحہ میں مارٹروں کے حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔سانا نے ''دہشت گردوں'' پر اس مارٹر حملے کا الزام عاید کیا ہے۔شام کا سرکاری میڈیا اور حکومت باغی جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے۔

شام میں مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی مزاحمتی تحریک اور اس کے نتیجے میں خانہ جنگی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے۔

شام میں خونریز تنازعے کا آغاز مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہروں سے ہوا تھا لیکن اسدحکومت کی جانب سے ان پُر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کے بعد عوامی مزاحمتی تحریک تشدد کا رخ اختیار کر گئی تھی اور مکمل خانہ جنگی بن گئی تھی۔