.

بوتفلیقہ کی چوتھی مدتِ صدارت کے لیے حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے نومنتخب علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے چوتھی مدت کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

دارالحکومت الجزائر میں منعقدہ تقریب میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سلیمان بودی نے ان سے قرآن مجید پر حلف لیا۔ستتر سالہ عبدالعزیز بوتفلیقہ اس موقع پر نیلے رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھے۔علالت کی وجہ سے حلف کی عبارت کے الفاظ دُہراتے ہوئے ان کی آواز میں نقاہت واضح تھی۔

اس کے بعد انھوں نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ''ان کا انتخاب ریاست کی جیت ہے''۔عبدالعزیز بوتفلیقہ حلف برداری کے لیے وہیل چئیر پر آئے تھے اور وہ 17 اپریل کو صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے دوران ووٹ ڈالنے کے لیے بھی وہیل چئیر پر پولنگ مرکز تک آئے تھے۔ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر بعض الجزائریوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔وہ اپنی علالت کی وجہ سے گذشتہ کئی ماہ سے عوام میں نمودار نہیں ہوئے تھے۔

صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی پانچ جماعتوں سمیت حزب اختلاف نے حلف برداری کی تقریب کا بھی بائیکاٹ کیا ہے۔عبدالعزیز بوتفلیقہ انتخابات میں ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے 81.53 فی صد ووٹ لے کر چوتھی مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے قریب ترین حریف علی بن فلیس رہے تھے۔ان کے حق میں صرف 12.18 فی صد ووٹ ڈالے گئے تھے۔

حزب اختلاف نے پولنگ کے دوران فراڈ اور بے ضابطگیوں کے الزامات عاید کیے تھے اور شکست خوردہ علی بن فلیس نے انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف 51.3 فی صد رہی تھی اور حکومت کا موقف تھا کہ انتخابی عمل آزادانہ اور شفاف انداز میں مکمل ہوا تھا۔

بوتفلیقہ گذشتہ پندرہ سال سے الجزائر کے حکمراں چلے آرہے ہیں اور وہ اب بھی عوام میں بہت مقبول ہیں۔وہ پہلی مرتبہ 1999ء میں الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں وہ دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ اکہتر فی صد ووٹ لے کرصدر منتخب ہوئے تھے۔وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور گذشتہ سال مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھے۔وطن واپسی کے بعد بھی وہ کم کم ہی نظر آئے ہیں۔ان کی انتخابی مہم بھی ان کے حامیوں نے چلائی تھی۔